ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان2 ذرائع سے تصدیق شدہ

ایل پی جی سرکاری نرخ سے 300 روپے فی کلو تک مہنگی فروخت

مارکیٹ میں ایل پی جی 530 سے 600 روپے فی کلو میں بک رہی ہے جبکہ سرکاری قیمت 279.34 روپے ہے۔ امپورٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق نومبر میں قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔

Photo: gas, energy, gas bottles, transport
Photo: gas, energy, gas bottles, transport تصویر: ulleo / Pixabay
اہم نکات
  • لاہور میں سرکاری نرخ 279.34 روپے جبکہ مارکیٹ میں 530 سے 600 روپے فی کلو
  • امپورٹرز نے نومبر میں مزید مہنگائی اور سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا
  • بلوچستان کے لیے بائوزر اب 10 سے 12 دن میں پہنچتے ہیں
279.34 روپے فی کلولاہور میں سرکاری قیمت
530 سے 600 روپے فی کلومارکیٹ قیمت
10 سے 12 دنبلوچستان کے لیے بائوزر کا وقت

ملک میں ایل پی جی سرکاری قیمت سے کہیں زیادہ پر فروخت ہو رہی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق صارفین 550 سے 600 روپے فی کلو ادا کر رہے ہیں، یعنی سرکاری نرخ سے تقریباً 300 روپے کا فرق ہے، اور ملک بھر میں قیمتیں کم نہیں ہوئیں۔

لاہور میں 24 نیوز ایچ ڈی نے جمعہ کو بتایا کہ مختلف علاقوں میں ایل پی جی 530 سے 600 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے، جبکہ سرکاری قیمت 279.34 روپے فی کلو ہے۔

دکانداروں کا کہنا ہے کہ وہ پلانٹس سے مہنگی گیس خریدتے ہیں اور قیمتوں میں اضافے کے ذمہ دار پلانٹ مالکان ہیں۔ کچھ دکانداروں کے مطابق جب تک پلانٹس پر سرکاری نرخ لاگو نہیں ہوتے، شہر میں سرکاری قیمت پر فروخت ممکن نہیں۔

شہریوں کے مطابق پائپ والی گیس دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے وہ مہنگی ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں۔ گھریلو صارفین سرکاری نرخ پر فروخت کا مطالبہ کرتے ہیں اور انہوں نے وزیراعلیٰ مریم نواز سے اپیل کی کہ ایل پی جی سرکاری قیمت پر دستیاب بنائی جائے اور انتظامیہ کو متحرک کیا جائے۔

ایل پی جی امپورٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ سکیورٹی خدشات اور سرحدی راستے بند ہونے کے باعث نومبر میں قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں اور سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ ایل پی جی ایران سے تفتان بارڈر کے ذریعے لائی جا رہی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بلوچستان میں سکیورٹی خدشات کی وجہ سے ایل پی جی بائوزرز کی ترسیل میں تاخیر ہو رہی ہے۔ جو بائوزر پہلے تین سے چار دن میں پہنچ جاتے تھے، اب 10 سے 12 دن لیتے ہیں، اور بعض عناصر اس تاخیر کا فائدہ اٹھا کر من مانی قیمتوں پر گیس فروخت کر رہے ہیں۔

ایسوسی ایشن کے چیئرمین شیخ مکرم وحید نے کہا کہ سکیورٹی اور سپلائی متاثر ہونے کے خدشات سے حکومت کو کئی ماہ سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایل پی جی کی ترسیل کے لیے مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اوگرا اور حکومت کو مہینوں سے آگاہی کے باوجود پیش رفت نہیں ہوئی۔

دوسری جانب ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن نے اوگرا اور سول ڈیفنس کے چھاپوں کے خلاف دو روزہ علامتی ہڑتال کی اور پلانٹ مالکان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ رکشہ ڈرائیور عدنان سمیع اللہ خان نے کہا کہ اب پورا ایک کلو گیس ڈلوانے کے پیسے نہیں ہوتے اور ساری کمائی گیس پر خرچ ہو جاتی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق اوگرا اور وزارت پیٹرولیم کے حکام نے ابھی مؤثر اقدامات نہیں کیے۔

یہ کیوں اہم ہے

پائپ والی گیس سے محروم گھرانے اور رکشہ ڈرائیور سرکاری نرخ سے کہیں زیادہ ادا کر رہے ہیں، جس سے ان کا بجٹ متاثر ہو رہا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

ایل پی جیاوگرالاہور

اس خبر پر مزید