لاہور ہائیکورٹ نے پی ایم ڈی سی کے برعکس نیورو سرجری بھرتی معیار غیر قانونی قرار دے دیا
لاہور ہائیکورٹ نے پی ایم ڈی سی کے مقررہ تجربے کے برعکس بھرتی معیار کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ جسٹس شیریں عمران نے اسسٹنٹ پروفیسر نیورو سرجری کے اشتہار کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔

- ہائیکورٹ نے پی ایم ڈی سی کے تجربے کے برعکس بھرتی معیار غیر قانونی قرار دیا
- فیصلہ اسسٹنٹ پروفیسر نیورو سرجری کے اشتہار کے خلاف درخواستوں پر آیا
- عدالت کے مطابق دو سالہ کلینیکل تجربہ اور دو تحقیقی مقالے لازمی ہیں
- متضاد اہلیتی شرائط کی حد تک اشتہار کالعدم قرار دیا گیا
لاہور ہائیکورٹ نے پی ایم ڈی سی کے مقررہ تجربے کے برعکس بھرتیوں کے معیار کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے اسسٹنٹ پروفیسر نیورو سرجری کی بھرتیوں کے متنازع اشتہار کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ جاری کیا۔
جسٹس شیریں عمران نے ڈاکٹر سید شاہ رخ حسن رضوی سمیت 11 درخواست گزاروں کی درخواست پر یہ فیصلہ سنایا۔
درخواست گزاروں کے وکیل کے مطابق محکمۂ صحت نے 22 اکتوبر 2025 کو 8 آسامیوں پر ابتدائی بھرتی کا اشتہار دیا تھا۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے 27 فروری 2025 کو نئے ضوابط جاری کیے تھے۔
عدالت کے مطابق پی ایم ڈی سی ضوابط کو پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ایکٹ 2022 کے تحت قانونی حیثیت حاصل ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ پنجاب حکومت کے سروس رولز وفاقی قانون کے تحت مقررہ کم از کم پیشہ ورانہ معیار ختم نہیں کر سکتے۔
عدالت کے مطابق اسسٹنٹ پروفیسر نیورو سرجری کے لیے متعلقہ شعبے میں دو سالہ کلینیکل تجربہ اور دو تحقیقی مقالے لازمی ہیں۔ عدالت نے کہا کہ اشتہار میں مطلوبہ تجربہ نہ رکھنے والے امیدواروں کو بھی اہل قرار دیا گیا تھا۔
عدالت کے مطابق 8 نیورو سرجن آسامیوں کے اشتہار میں مقرر کردہ معیار پی ایم ڈی سی کے 2025 کے ضوابط سے مطابقت نہیں رکھتا۔ عدالت نے متنازع اشتہار کو کالعدم قرار دینے کا حکم دیا اور پنجاب پبلک سروس کمیشن کے اشتہار کو متضاد اہلیتی شرائط کی حد تک غیر قانونی قرار دیا۔
عدالت نے ہدایت کی کہ اسسٹنٹ پروفیسر نیورو سرجری کی بھرتیاں پی ایم ڈی سی ضوابط کے مطابق مکمل کی جائیں۔ عدالت کے مطابق ابتدائی بھرتیوں اور ترقیوں کا مقررہ کوٹہ برقرار رہے گا۔
یہ کیوں اہم ہے
فیصلہ پنجاب میں نیورو سرجری کی اعلیٰ آسامیوں پر ڈاکٹروں کی بھرتی کے طریقے پر اثر ڈالتا ہے، جہاں عدالت کے مطابق وفاقی پی ایم ڈی سی معیار پورا کرنا لازمی ہے۔ اس کا تعلق سرکاری صحت خدمات میں ماہرین کی اہلیت سے ہے۔



