ابھی ابھیغیر ملکی معدنی سرمایہ کاروں کے لیے ٹیکس مراعات کا منصوبہسپریم کورٹ: بیوی پر تشدد سرکاری ملازم کی سروس سے متعلق بدعنوانی ہےپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیوروں کی آمدن میں کمی
پاکستان4 ذرائع سے تصدیق شدہ

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کا بیٹیوں کی فیملی پنشن بحال کرنے کا حکم

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے بیوہ، طلاق یافتہ اور غیر شادی شدہ بیٹیوں کی فیملی پنشن ختم کرنے کا پنجاب کا فیصلہ غیر آئینی قرار دے دیا۔ عدالت نے تمام متاثرہ خواتین کو ادائیگی کا حکم دیا ہے۔

This is a photo of a monument in Pakistan identified as the
This is a photo of a monument in Pakistan identified as the تصویر: MariyamAftab / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0
اہم نکات
  • عدالت نے فیملی پنشن صرف بیواؤں تک محدود کرنے کی 2024 کی تبدیلی کالعدم قرار دی
  • بیوہ، طلاق یافتہ اور غیر شادی شدہ متاثرہ بیٹیوں کو ادائیگی کا حکم
  • پنجاب کے 42 محکموں کے ملازمین کی بیٹیوں کی پنشن بند ہو گئی تھی
42پنجاب کے متاثرہ سرکاری محکمے
2024تبدیلی کا سال

لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے پنجاب حکومت کا وہ فیصلہ غیر آئینی قرار دے دیا ہے جس کے تحت سرکاری ملازمین کے انتقال کے بعد ان کی بیوہ، طلاق یافتہ اور غیر شادی شدہ بیٹیوں کی فیملی پنشن بند کر دی گئی تھی۔ عدالت نے تمام متاثرہ خواتین کو ادائیگی کا حکم بھی دیا۔

جسٹس احسن رضا کاظمی نے راولپنڈی بینچ میں محفوظ شدہ فیصلہ سنایا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق عدالت نے طلاق یافتہ، بیوہ اور غیر شادی شدہ بیٹیوں کو فوری طور پر فیملی پنشن دینے کا حکم دیا۔

درخواست ایک متاثرہ خاتون فلک شاہ اور ایڈووکیٹ تنویر سہیل شاہ نے دائر کی تھی، جو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی کے سابق صدر ہیں۔ درخواست کے مطابق پنجاب حکومت نے 2024 میں قانون تبدیل کیا۔ ٹیک جوس کے مطابق محکمہ خزانہ نے اسی سال نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں فیملی پنشن کی اہلیت بیواؤں تک محدود کر دی گئی۔ ایکسپریس نیوز نے اس تبدیلی کو نیا صوبائی فیملی قانون قرار دیا۔

رپورٹس کے مطابق اس کے نتیجے میں پنجاب کے 42 سرکاری محکموں کے ہزاروں ملازمین کی بیٹیوں کی پنشن بند کر دی گئی تھی۔

درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ باقی تمام صوبوں میں طلاق یافتہ، بیوہ اور غیر شادی شدہ بیٹیاں پنشن کی حق دار ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نوٹیفکیشن آئین کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق عدالت نے کہا کہ ایسی بیٹیوں کو فیملی پنشن سے محروم کرنا آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت نے محکمہ خزانہ پنجاب اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل اور پیش کردہ مواد مسترد کر دیا۔ عدالت نے نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیتے ہوئے پنجاب میں تمام اہل بیٹیوں کی فیملی پنشن بحال کرنے کا حکم دیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اس فیصلے سے فیملی پنشن سے محروم ہونے والی ہزاروں خواتین کو فائدہ ہونے کی توقع ہے۔ رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ پنجاب حکومت فیصلے کو چیلنج کرے گی یا نہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

اس فیصلے کا اثر پنجاب کی ان ہزاروں خواتین پر پڑتا ہے جو سرکاری ملازم والدین کے انتقال کے بعد فیملی پنشن پر انحصار کرتی ہیں۔ عدالت نے محروم کی گئی تمام خواتین کو ادائیگی کا حکم دیا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

فیملی پنشنلاہور ہائی کورٹپنجاب

اس خبر پر مزید