ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان3 ذرائع سے تصدیق شدہ

لاہور ہائیکورٹ نے بچوں کا ماہانہ خرچہ 30 ہزار روپے فی بچہ مقرر کر دیا

لاہور ہائیکورٹ نے نابالغ بچوں کا ماہانہ خرچہ 20 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے فی بچہ کر دیا ہے۔ خرچے میں 10 فیصد سالانہ اضافہ 2019 سے شمار کیا جائے گا۔

Photo: gavel, auction, law, hammer
Photo: gavel, auction, law, hammer تصویر: qimono / Pixabay
اہم نکات
  • ماہانہ خرچہ 20 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار روپے فی بچہ کر دیا گیا
  • 10 فیصد سالانہ اضافہ 2019 سے شمار ہوگا
  • عدالت: والد کی مالی استطاعت کا تعین شواہد پر ہوگا، بیرونِ ملک رہائش پر نہیں
30 ہزار روپےنیا ماہانہ خرچہ فی بچہ
20 ہزار روپےسابقہ ماہانہ خرچہ فی بچہ
10 فیصدسالانہ اضافہ، 2019 سے
2 لاکھ 80 ہزار روپےجہیز کے سامان کا معاوضہ

پروپاکستانی اور نوائے وقت کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے نابالغ بچوں کا ماہانہ خرچہ 20 ہزار روپے سے بڑھا کر 30 ہزار روپے فی بچہ مقرر کرنے کا حکم دیا ہے۔

پروپاکستانی کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی نے یہ فیصلہ ایک خاتون کی درخواست پر سنایا، جس میں اس نے اپنے نابالغ بچوں کے لیے زیادہ خرچے کی استدعا کی تھی۔ عدالت نے خرچے میں 10 فیصد سالانہ اضافے کا بھی حکم دیا، جو 2019 سے شمار کیا جائے گا۔

عدالت نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ اس سالانہ اضافے کے مطابق واجب الادا رقم کا حساب لگایا جائے۔

درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ بچوں کا والد برطانوی شہری ہے اور زیادہ خرچہ ادا کر سکتا ہے۔ والد نے دعویٰ کیا کہ برطانیہ میں اس کی ماہانہ آمدن 500 سے 600 پاؤنڈ کے درمیان ہے۔

عدالت نے کہا کہ برطانیہ میں رہنے سے کسی شخص کی اصل آمدن ثابت نہیں ہو جاتی۔ والد کی مالی استطاعت کا تعین اس کے کام کی نوعیت، ملازمت کی تفصیلات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ محدود آمدن کا دعویٰ تنخواہ کی پرچیوں جیسے دستاویزی ثبوت کے بغیر قبول نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ کے ایک سابقہ فیصلے کا حوالہ دیا، جس کے مطابق طلاق کے بعد بھی والد پر بچوں کی مالی کفالت کی ذمہ داری برقرار رہتی ہے، چاہے بچے ماں کے ساتھ رہتے ہوں۔ عدالت نے کہا کہ خرچے کا تعین بچوں کی تعلیم، پرورش اور بنیادی ضروریات کے ساتھ والد کی مالی استطاعت دیکھ کر کیا جانا چاہیے۔

عدالت نے ماتحت عدالت کے وہ احکامات بھی برقرار رکھے جن کے تحت ماں کو عدت کے دوران 15 ہزار روپے ماہانہ خرچہ اور جہیز کے سامان کے معاوضے کے طور پر 2 لاکھ 80 ہزار روپے دیے گئے تھے۔

یہ کیوں اہم ہے

اس فیصلے سے خرچے کی نئی سطح طے ہوئی ہے اور عدالتوں کے لیے والد کی آمدن جانچنے کا طریقہ بھی واضح ہوا ہے، جس کا اثر ملک بھر کے خاندانوں میں بچوں اور والدین پر پڑتا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

لاہور ہائیکورٹبچوں کا خرچہ

اس خبر پر مزید