ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان5 ذرائع سے تصدیق شدہ

لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی تین بہنوں کی بازیابی کی درخواست نمٹا دی

لاہور ہائیکورٹ نے علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی بازیابی کی درخواست سیکریٹری داخلہ پنجاب کی رپورٹ پر نمٹا دی۔ حکومت نے عدالت کو بتایا کہ ان کی نظر بندی میں توسیع کی گئی ہے۔

Photo: hammer, libra, dish, justice
Photo: hammer, libra, dish, justice تصویر: succo / Pixabay
اہم نکات
  • جسٹس عبہر گل خان نے پیر کو درخواست پر سماعت کر کے اسے نمٹا دیا۔
  • پنجاب حکومت نے بتایا کہ نظر بندی میں 30 روز کی توسیع کی گئی۔
  • عدالت نے نوٹ کیا کہ درخواست میں ڈپٹی کمشنر کو فریق نہیں بنایا گیا۔
30 روزنظر بندی میں توسیع
7 اکتوبرتوسیع کی تاریخ

لاہور ہائیکورٹ نے پیر کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی بازیابی کی درخواست نمٹا دی۔ عدالت نے یہ فیصلہ سیکریٹری داخلہ پنجاب کی جانب سے ان کی مسلسل نظر بندی سے متعلق جمع کرائی گئی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد کیا۔

کیس کی سماعت جسٹس عبہر گل خان نے کی۔ سیکریٹری داخلہ پنجاب اور سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل عدالت میں پیش ہوئے۔ روزنامہ جنگ کے مطابق عظمیٰ خان کے شوہر اور علیمہ خان کے بیٹے بھی عدالت میں موجود تھے۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تینوں بہنوں کی نظر بندی میں 30 روز کی توسیع کی گئی ہے۔ جنگ اور ڈیلی ٹائمز کے مطابق یہ توسیع 7 اکتوبر کو کی گئی۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق ڈپٹی کمشنر نے صوبائی حکومت کو توسیع کی سفارش کی تھی جس پر حکومت نے منظوری دی۔

ڈیلی ٹائمز کے مطابق سرکاری پراسیکیوٹر نے کہا کہ امن عامہ سے متعلق قوانین کے تمام تقاضے پورے کیے گئے اور صوبے میں امن عامہ برقرار رکھنے کے لیے توسیع ضروری ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ تینوں بہنوں کو بازیاب کروا کر عدالت میں پیش کیا جائے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ نظر بندی کا نوٹیفکیشن ڈپٹی کمشنر نے جاری کیا تھا، مگر درخواست میں انہیں فریق نہیں بنایا گیا۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ وہ درخواست کے دائرے سے باہر جا کر کوئی حکم جاری نہیں کر سکتی۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق بینچ نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کے نوٹیفکیشن کو مناسب قانونی راستے سے چیلنج کرنا ہوگا۔

بعد ازاں عدالت نے سیکریٹری داخلہ کی رپورٹ کی روشنی میں درخواست نمٹا دی۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق درخواست گزار کے وکلا نے اشارہ دیا کہ وہ نئے نظر بندی نوٹیفکیشن کو مناسب قانونی راستے سے چیلنج کریں گے اور تمام متعلقہ حکام کو فریق بنا کر نظرثانی شدہ درخواست دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ نمایاں سیاسی خاندانوں سے متعلق نظر بندی کے مقدمات عدالت میں کیسے نمٹائے جاتے ہیں، جس کا تعلق شہریوں کے حقوق اور ملکی سیاسی ماحول سے ہے۔ درخواست گزار اب نئی قانونی چارہ جوئی کا ارادہ رکھتے ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

لاہور ہائیکورٹعمران خانپی ٹی آئی

اس خبر پر مزید