ابھی ابھی
پاکستان3 ذرائع سے تصدیق شدہ

لاہور ہائیکورٹ: چائلڈ میرج ایکٹ 2026 کا ماضی کی شادیوں پر اطلاق غیر قانونی

لاہور ہائیکورٹ نے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 کے ماضی سے اطلاق کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ عدالت نے خوشاب سیشن کورٹ کا لڑکی کو دارالامان بھیجنے کا حکم کالعدم کر دیا۔

لاہور ہائیکورٹ: چائلڈ میرج ایکٹ 2026 کا ماضی کی شادیوں پر اطلاق غیر قانونی
تصویر: Vdollero / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0
اہم نکات
  • ہائیکورٹ کے مطابق ایکٹ کا اطلاق نفاذ سے پہلے ہونے والی شادیوں پر نہیں ہو سکتا
  • سیشن کورٹ خوشاب کا 20 مئی 2026 کا فیصلہ کالعدم
  • لڑکی کو اپنی مرضی سے جہاں چاہے رہنے کی اجازت
11 مئی 2026ایکٹ کا نفاذ
18 اپریل 2026نکاح کی تاریخ
20 مئی 2026کالعدم سیشن کورٹ فیصلہ

ڈیلی پاکستان اردو کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2026 کے نفاذ سے پہلے ہونے والی شادیوں پر اس کے ماضی سے اطلاق کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔

جسٹس خالد ابن عزیز نے شیر باز اور صفینہ خاتون کی فوجداری نظرثانی درخواست منظور کر لی۔ عدالت نے سیشن کورٹ خوشاب کا 20 مئی 2026 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا۔

سیشن کورٹ نے لڑکی کرن شاہین کو سولہ سال سے کم عمر قرار دے کر دارالامان بھیجنے کا حکم دیا تھا۔ ہائیکورٹ نے یہ حکم ختم کر دیا۔

یہ ایکٹ 11 مئی 2026 کو نافذ ہوا، جبکہ لڑکی کا نکاح 18 اپریل 2026 کو، یعنی قانون کے نفاذ سے پہلے ہوا تھا۔

مجسٹریٹ کے سامنے بیان میں لڑکی نے کہا کہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے اور اسے اغوا نہیں کیا گیا۔ اس نے والد کے ساتھ جانے سے انکار کیا اور شوہر کے ساتھ رہنے کی خواہش ظاہر کی۔

ہائیکورٹ نے لڑکی کے والد احمد شیر کی آئینی درخواست بھی خارج کر دی۔

عدالت نے کہا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 552 کے تحت کارروائی کے لیے اغوا اور سولہ سال سے کم عمر ہونے کے قانونی تقاضوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس نے کہا کہ یہ دفعہ عدالت کو لڑکی کو غیر معینہ مدت تک دارالامان میں رکھنے کی اجازت نہیں دیتی۔

عدالت نے قرار دیا کہ لڑکی کو اس کی مرضی کے خلاف دارالامان میں رکھنا قانونی تقاضوں کے منافی تھا، اور اسے اپنی خواہش کے مطابق آزادانہ جہاں چاہے رہنے کی اجازت دے دی۔

پس منظر

خبر ڈاٹ پی کے نے 4 نومبر کو رپورٹ کیا تھا کہ پنجاب اسمبلی کی ایک کمیٹی نے بچوں کے تحفظ کی عمر 14 سے بڑھا کر 16 سال کرنے کا بل متفقہ طور پر منظور کیا۔

یہ کیوں اہم ہے

یہ فیصلہ طے کرتا ہے کہ پنجاب میں خاندانوں اور لڑکیوں پر نیا چائلڈ میرج قانون کس طرح لاگو ہوگا۔ اس مقدمے میں واضح ہوا کہ 11 مئی 2026 سے پہلے ہونے والی شادی کو نئے ایکٹ کے تحت نہیں پرکھا جا سکتا۔ فیصلہ دفعہ 552 کے تحت لڑکی کو مرضی کے خلاف دارالامان میں رکھنے کی گنجائش بھی محدود کرتا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

لاہور ہائیکورٹکم عمری کی شادی

اس خبر پر مزید