لکی مروت جوڈیشل کمپلیکس میں فائرنگ، پولیس اہلکار جاں بحق، دو زخمی
لکی مروت میں ہفتے کو ایڈیشنل سیشن جج کے کمرہ عدالت کے باہر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک پولیس کانسٹیبل جاں بحق ہو گیا۔ پیپلز پارٹی کے ضلعی رہنما سمیت دو افراد زخمی ہوئے جنہیں بنوں منتقل کیا گیا۔

- لکی مروت کے جوڈیشل کمپلیکس میں کمرہ عدالت کے باہر فائرنگ سے کانسٹیبل کرامت اللہ جاں بحق ہوئے۔
- پیپلز پارٹی کے ضلعی سیکرٹری اطلاعات ایڈووکیٹ جاوید اقبال اور انشاء اللہ زخمی ہوئے۔
- پولیس نے کمپلیکس سیل کر کے تحقیقات شروع کر دیں۔
خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں ہفتے کو جوڈیشل کمپلیکس کے اندر ایڈیشنل سیشن جج کے کمرہ عدالت کے باہر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کی۔ واقعے میں ایک پولیس کانسٹیبل جاں بحق اور دو افراد زخمی ہو گئے۔
ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ترجمان جلال خان کے مطابق کانسٹیبل کرامت اللہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ منٹ مرر کے مطابق حملہ آوروں نے مبینہ طور پر اندھا دھند فائرنگ کی جس سے وکلا، سائلین اور دیگر افراد میں خوف پھیل گیا۔
زخمیوں میں پیپلز پارٹی کے ضلعی سیکرٹری اطلاعات ایڈووکیٹ جاوید اقبال اور انشاء اللہ شامل ہیں۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق دونوں شدید زخمی ہیں۔ انہیں پہلے ڈی ایچ کیو ہسپتال لایا گیا اور پھر علاج کے لیے بنوں منتقل کر دیا گیا۔
جلال خان نے تصدیق کی کہ ہسپتال میں ایک لاش اور دو زخمی لائے گئے تھے۔
پولیس نے کمپلیکس کو سیل کر کے آمد و رفت بند کر دی اور علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی۔ پولیس واقعے کے حالات اور ذمہ داروں کا پتا لگانے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے۔
اس سے ایک روز قبل بنوں، لکی مروت اور باجوڑ میں الگ الگ واقعات میں تین پولیس اہلکار مارے گئے تھے۔ ایکسپریس ٹریبیون اور منٹ مرر کے مطابق باجوڑ میں سلائی پتی پولیس چوکی پر حملے میں کانسٹیبل خستہ مین سید جاں بحق ہوئے۔ بنوں میں محکمہ انسداد دہشت گردی کے کانسٹیبل صادق زمان کو گولی مار کر قتل کیا گیا، جبکہ لکی مروت میں بینک کے قریب کانسٹیبل ممتاز مارے گئے۔ بنوں میں ایک ہیڈ کانسٹیبل کو اغوا بھی کیا گیا۔
رپورٹس میں دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق یکم مارچ 2024 سے 23 ستمبر 2026 کے درمیان صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ہوا اور ڈرون حملے بھی نمایاں طور پر بڑھے۔ 2026 میں صوبے میں ریکارڈ ہونے والے 73 فیصد دہشت گرد حملوں میں پولیس اور سکیورٹی اہلکار نشانہ بنے۔
ایکسپریس نیوز نے نوشہرہ کے علاقے پانا کوٹ چارات میں ایک الگ واقعہ بھی رپورٹ کیا جہاں نامعلوم افراد نے اسسٹنٹ کمشنر مانسہرہ عدیل وسیم کو فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا۔ وہ فاتحہ خوانی کے لیے اپنے گاؤں آئے ہوئے تھے۔
یہ کیوں اہم ہے
خیبر پختونخوا میں ضلعی عدالت کے احاطے میں حملہ اور پولیس اہلکاروں کی حالیہ ہلاکتیں پولیس، وکلا اور عدالت آنے والوں کے لیے سکیورٹی خطرات کی نشاندہی کرتی ہیں۔



