ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان11 ذرائع سے تصدیق شدہ

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی مستعفی ہوگئے

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے استعفیٰ صدر مملکت کو بھجوا دیا ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق استعفے میں ذاتی وجوہات، صحت کے مسائل اور ضمیر کی آواز کا ذکر ہے۔

The High Court of Australia, in Canberra ACT, is an unusual and distinctive structure, built in the brutalist style, and features a public atrium with a 24-met…
The High Court of Australia, in Canberra ACT, is an unusual and distinctive structure, built in the brutalist style, and features a public atrium with a 24-met… تصویر: Thennicke / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0
اہم نکات
  • جسٹس محسن اختر کیانی نے استعفیٰ صدر آصف علی زرداری کو بھجوایا۔
  • وہ رواں سال اسلام آباد ہائیکورٹ سے لاہور ہائیکورٹ منتقل ہوئے تھے اور 2032 میں ریٹائر ہونا تھا۔
  • رپورٹ شدہ متن کے مطابق 26ویں اور 27ویں ترامیم نے ہائیکورٹس کی آزادی کو متاثر کیا۔
23 ہزار سے زائداستعفے کے متن کے مطابق فیصل شدہ مقدمات
2032ریٹائرمنٹ کا سال
23 دسمبر 2015اسلام آباد ہائیکورٹ میں تقرری

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی مستعفی ہوگئے ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق انہوں نے بدھ کو اپنا استعفیٰ صدر آصف علی زرداری کو بھجوایا۔

ایکسپریس نیوز نے استعفے کی کاپی حاصل کی ہے۔ متن کے مطابق انہوں نے ذاتی وجوہات، صحت کے مسائل اور ضمیر کی آواز پر استعفیٰ دیا۔ انہوں نے لکھا کہ اپنے عدالتی کیریئر میں 23 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے۔

استعفے میں کہا گیا ہے کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم نے ہائیکورٹس کی آزادی اور ادارہ جاتی خودمختاری کو متاثر کیا۔ متن کے مطابق ججز کی تقرری اور تبادلوں میں انتظامیہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت عدلیہ کی آزادی کے لیے نقصان دہ ہے۔

جسٹس کیانی نے لکھا کہ عدالتی آزادی اور انصاف کے عمل پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق سائلین کی مشکلات بڑھ رہی ہیں اور انصاف کے متلاشی افراد کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ ان کا ضمیر موجودہ حالات میں بطور جج فرائض جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔ وہ وکالت میں واپس آ کر عوام کے حقوق کے تحفظ اور قانونی شعور کے لیے کام کریں گے۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وہ مئی میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے لاہور ہائیکورٹ منتقل ہوئے اور پرنسپل سیٹ پر کام کر رہے تھے۔ نئے روسٹر میں انہیں راولپنڈی بنچ میں بھیجا گیا تھا۔ وہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں سینیارٹی میں دوسرے اور لاہور ہائیکورٹ میں دسویں نمبر پر تھے، اور 2032 میں ریٹائر ہونا تھا۔

جنگ کے مطابق وہ 23 دسمبر 2015 کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج مقرر ہوئے تھے۔ اپریل میں جوڈیشل کمیشن نے ان کے لاہور ہائیکورٹ، جسٹس بابر ستار کے پشاور ہائیکورٹ اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے سندھ ہائیکورٹ تبادلے کی منظوری دی تھی۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ 27ویں ترمیم کا ہائیکورٹس پر پہلا براہ راست اطلاق تھا۔ آرٹیکل 200 میں تبدیلی کے بعد تبادلے کے لیے جج کی رضامندی کی شرط ختم ہو گئی۔

یہ کیوں اہم ہے

ایک سینئر ہائیکورٹ جج کے مستعفی ہونے سے شہریوں کے مقدمات سننے والی عدالتیں متاثر ہوتی ہیں، اور ان کے خط میں عدالتی آزادی اور سائلین کی مشکلات کا ذکر ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

لاہور ہائیکورٹعدلیہاستعفیٰ

اس خبر پر مزید