لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی ترامیم پر تحفظات کے بعد مستعفی
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی بدھ کو مستعفی ہو گئے اور استعفیٰ صدر پاکستان کو بھجوایا۔ انہوں نے ذاتی اور طبی وجوہ بتائیں اور کہا کہ 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم سے ہائیکورٹس کی آزادی متاثر ہوئی۔

- جسٹس محسن اختر کیانی بدھ کو لاہور ہائیکورٹ سے مستعفی ہوئے۔
- انہوں نے ذاتی وجوہ، حالیہ سرجری کے بعد صحت کے مسائل اور ضمیر کی وجوہ بتائیں۔
- ان کے مطابق 26 ویں اور 27 ویں ترامیم سے ہائیکورٹس کی آزادی متاثر ہوئی۔
- انہوں نے 23 ہزار سے زائد مقدمات نمٹانے کا ذکر کیا اور وکالت میں واپس جائیں گے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی بدھ کو مستعفی ہو گئے۔ ڈیلی ٹائمز اور ڈیلی پاکستان اردو کے مطابق انہوں نے استعفیٰ صدر پاکستان کے نام بھجوایا۔
استعفے میں انہوں نے ذاتی وجوہ، حالیہ سرجری کے بعد صحت کے مسائل اور ضمیر کی وجوہ کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ اور لاہور ہائیکورٹ میں خدمات انجام دینا ان کے لیے اعزاز تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ دورانِ سروس انہوں نے 23 ہزار سے زائد مقدمات نمٹائے۔
جسٹس کیانی نے 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم پر تحفظات ظاہر کیے۔ انہوں نے لکھا: "in my considered view, the changes introduced through the 26th and 27th Constitutional Amendments have compromised the independence and institutional integrity of the high courts"۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی اداروں پر، بشمول ججوں کی تقرری اور تبادلے، انتظامیہ کا کنٹرول بڑھ رہا ہے۔ ڈیلی ٹائمز کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ عام سائلین کی مشکلات گہری ہو رہی ہیں۔
انہوں نے مزید لکھا: "my conscience does not permit me to continue on the bench" اور "the time has come for me to lay down my robes and return to legal practice"۔ دونوں رپورٹس کے مطابق وہ عہدہ چھوڑنے کے بعد وکالت کریں گے۔
ڈیلی پاکستان اردو کے مطابق انہیں ایک دن پہلے لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بنچ میں تبدیل کیا گیا تھا۔ اسی رپورٹ کے مطابق اپریل میں انہیں دیگر ججوں کے ساتھ اسلام آباد ہائیکورٹ سے لاہور ہائیکورٹ منتقل کیا گیا تھا اور وہ 11 فروری 2032 کو ریٹائر ہونے والے تھے۔
یہ کیوں اہم ہے
ایک سینئر ہائیکورٹ جج کا عدالتوں کی آزادی کا حوالہ دے کر مستعفی ہونا پاکستان میں عدلیہ پر عوامی اعتماد کے حوالے سے اہم ہے۔



