کراچی کی لوڈشیڈنگ قومی اسمبلی میں اٹھائی گئی، معاملہ توانائی کمیٹی کے سپرد
ایم کیو ایم پاکستان کے سید امین الحق نے کراچی میں لوڈشیڈنگ پر قومی اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا۔ ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے معاملہ توانائی کی قائمہ کمیٹی کو بھیج دیا۔

- امین الحق نے کراچی میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور کے الیکٹرک کے فیڈرز کی خرابیاں دور نہ کرنے کا معاملہ اٹھایا۔
- پارلیمانی سیکرٹری عامر طلال خان نے کہا کہ لوڈشیڈنگ مجبوراً کرنی پڑتی ہے اور انڈسٹریل فیڈرز پر نہیں ہوتی۔
- ڈپٹی اسپیکر نے معاملہ توانائی کی قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رکن سید امین الحق نے منگل کو قومی اسمبلی میں کراچی کی بدترین لوڈشیڈنگ پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا۔ اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے کی۔
نوٹس میں شہر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور کے الیکٹرک کی جانب سے فیڈرز کی خرابیاں دور نہ کرنے کا معاملہ اٹھایا گیا۔ ایوان میں خطاب کرتے ہوئے امین الحق نے کہا کہ کے الیکٹرک ان کمپنیوں میں شامل ہے جنہیں عوام نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور یہ ادارہ مافیا کے طور پر کام کر رہا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کے الیکٹرک اوور بلنگ کے ذریعے اربوں روپے کما رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اتنی کمائی کے بعد کراچی کی جنریشن کے لیے کتنا کام کیا گیا، کہا کہ رات کو بھی لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے اور پوچھا کہ کمپنی شہر کے لیے کیا کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے جواب دیتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری عامر طلال خان نے کہا کہ لوڈشیڈنگ مجبوراً کرنی پڑتی ہے۔ ان کے مطابق بعض اوقات مرمتی کام ہوتا ہے اور اس وجہ سے لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیپرا رول کے مطابق رات کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہیں ہونی چاہیے اور اگر ایسا ہو رہا ہے تو اسے دیکھا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انڈسٹریل فیڈرز پر کسی قسم کی لوڈشیڈنگ نہیں ہے۔
بحث کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے معاملہ توانائی کی قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔
اسی اجلاس میں 27 اکتوبر یوم سیاہ پر کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کی قرارداد بھی منظور کی گئی، جو وفاقی وزیر امور کشمیر امیر مقام اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین قاسم نون نے پیش کی۔ ایوان میں کئی ترمیمی بلز بھی پیش ہوئے، جن میں سے کئی منظور اور بعض قائمہ کمیٹیوں کو بھیج دیے گئے۔ اجلاس اگلے روز صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
یہ کیوں اہم ہے
کراچی میں بجلی کی بندش گھرانوں، کاروبار اور صنعت کو متاثر کرتی ہے، اور اب توانائی کی قائمہ کمیٹی قومی اسمبلی میں اٹھائی گئی شکایات کا جائزہ لے گی۔



