ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان4 ذرائع سے تصدیق شدہ

کراچی: کامران چورنگی کے قریب فرنیچر مارکیٹ کی آگ پر قابو پا لیا گیا

کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں کامران چورنگی کے قریب فرنیچر مارکیٹ میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا۔ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں، آگ کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔

A Soviet PMG-1 fire engine based on a GAZ-AA truck (production: 1932—1941). Fire engines based on ZiS/ZiL chassis are seen behind the PMG-1. The photo was take…
A Soviet PMG-1 fire engine based on a GAZ-AA truck (production: 1932—1941). Fire engines based on ZiS/ZiL chassis are seen behind the PMG-1. The photo was take… تصویر: Dmitry Ivanov . / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0
اہم نکات
  • گلستانِ جوہر میں کامران چورنگی کے قریب فرنیچر مارکیٹ میں آگ لگی اور ساتھ کی رہائشی عمارت تک پھیل گئی۔
  • چیف فائر آفیسر ہمایوں خان کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
  • ایک دکاندار نے کروڑوں روپے نقصان کا دعویٰ کیا، وجہ اور نقصان کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔
20دکانداروں کے مطابق مارکیٹ میں دکانیں
4استعمال ہونے والے فائر ٹینڈرز
90 فیصدآڈٹ میں فائر سیفٹی سے محروم عمارتیں

کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں کامران چورنگی کے قریب فرنیچر مارکیٹ میں آگ لگ گئی، جس پر فائر فائٹرز نے بعد ازاں قابو پا لیا۔ ریسکیو 1122 کے مطابق آگ ملحقہ رہائشی عمارت تک بھی پھیلی، جہاں اس پر قابو پا لیا گیا۔

جیو نیوز کے مطابق ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ آگ بجھانے کے لیے چار فائر ٹینڈرز اور ایک واٹر باؤزر استعمال ہوئے۔ جنگ کے مطابق ترجمان ریسکیو نے بھی چار فائر ٹینڈرز کا ذکر کیا۔ ریسکیو 1122 نے بتایا کہ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں، ریسکیو ٹیمیں اور ایک ایمبولینس موقع پر بھیجی گئیں۔ آگ دوبارہ بھڑکنے سے روکنے کے لیے کولنگ کا عمل جاری رہا۔

چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے کہا کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔ ان کے الفاظ تھے: "There had been no loss of life."

ایکسپریس نیوز کے مطابق حفاظتی اقدام کے طور پر کے الیکٹرک نے گلستانِ جوہر کے بلاک کی بجلی منقطع کر دی۔ اس کے مطابق ایس ایس پی ایسٹ نے بتایا کہ بڑی تعداد میں پولیس گلستانِ جوہر اور شاہراہِ فیصل پہنچی، علاقے کو گھیرے میں لے کر سکیورٹی سخت کی گئی۔

آگ کی وجہ اور مالی نقصان کی حد کا سرکاری طور پر تعین نہیں ہو سکا۔ دکاندار اصغر نے جیو نیوز کو بتایا کہ مارکیٹ میں 20 دکانیں تھیں اور ان کے دعوے کے مطابق نقصان کروڑوں روپے کا ہے۔

اصغر کے مطابق آگ کی اطلاع مددگار 15 ہیلپ لائن پر دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ فائر فائٹرز کو پہنچنے میں تقریباً 15 سے 20 منٹ لگے اور تب تک شعلے پوری مارکیٹ میں پھیل چکے تھے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ مارکیٹ میں پچھلے سال بھی آگ لگی تھی اور دکانیں کمرشل پلاٹ پر بنائی گئی تھیں۔

جیو نیوز کی سابقہ رپورٹ کے مطابق 31 دسمبر 2024 کو اسی مارکیٹ میں بڑی آگ لگی تھی جس میں 30 سے زائد دکانیں جل گئیں، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

جیو کے مطابق جنوری میں گل پلازہ آتشزدگی کے بعد وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بڑی سرکاری، نجی اور تجارتی عمارتوں کے صوبہ گیر فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم دیا اور تجارتی عمارتوں کے سالانہ معائنے بحال کرنے کی منظوری دی جو برسوں پہلے بند ہو گئے تھے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے آڈٹ میں شہر کے شرقی، وسطی اور جنوبی اضلاع کی 90 فیصد جائزہ لی گئی عمارتوں میں فائر سیفٹی انتظامات نہیں ملے، اور 300 سے زائد مالکان کو عمارتیں سیل کرنے کے انتباہی نوٹس جاری ہوئے۔ فروری میں ضلعی انتظامیہ نے صدر میں دو بڑی تجارتی عمارتیں سیل کی تھیں۔

یہ کیوں اہم ہے

کراچی کی گنجان تجارتی مارکیٹوں میں آگ تاجروں اور خریداروں کے لیے خطرہ ہے۔ اس مارکیٹ میں دسمبر 2024 میں بھی بڑی آگ لگ چکی ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

کراچیآتشزدگیگلستانِ جوہر

اس خبر پر مزید