جے ایس بینک کا نو ماہ کا بعد از ٹیکس منافع 67 فیصد بڑھ کر 4.3 ارب روپے
جے ایس بینک لمیٹڈ نے 30 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے نو ماہ کا بعد از ٹیکس منافع 67 فیصد اضافے سے 4.300 ارب روپے بتایا ہے۔ فی حصص آمدنی 1.25 روپے سے بڑھ کر 2.10 روپے ہو گئی۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- بعد از ٹیکس منافع 2.569 ارب روپے سے 67 فیصد بڑھ کر 4.300 ارب روپے رہا۔
- قبل از ٹیکس منافع 58 فیصد اضافے سے 8.932 ارب روپے رہا۔
- کل اثاثے 12 فیصد بڑھ کر 733.719 ارب روپے اور ڈپازٹس 10 فیصد بڑھ کر 598.123 ارب روپے ہو گئے۔
- 30 ستمبر 2026 کو کیپٹل ایڈیکویسی ریشو 13.30 فیصد رہا۔
جے ایس بینک لمیٹڈ (PSX: JSBL) نے 30 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے نو ماہ کے مالی نتائج کا اعلان کر دیا۔ بینک کا بعد از ٹیکس منافع 67 فیصد اضافے سے 4.300 ارب روپے رہا، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 2.569 ارب روپے تھا۔
قبل از ٹیکس منافع 5.665 ارب روپے سے 58 فیصد بڑھ کر 8.932 ارب روپے ہو گیا۔ فی حصص آمدنی 1.25 روپے سے بڑھ کر 2.10 روپے رہی۔
دسمبر 2025 کے مقابلے میں بینک کے کل اثاثے 12 فیصد اضافے سے 655.636 ارب روپے سے بڑھ کر 733.719 ارب روپے ہو گئے۔ کل ڈپازٹس 543.502 ارب روپے سے 10 فیصد بڑھ کر 598.123 ارب روپے رہے۔
بلا منافع ڈپازٹس کا حصہ دسمبر 2025 کے 40.87 فیصد سے بہتر ہو کر 43.35 فیصد ہو گیا۔
فیس سے آمدنی 4.34 فیصد بڑھ کر 3.828 ارب روپے رہی، جبکہ نان مارک اپ اخراجات 3.3 فیصد اضافے سے 23.152 ارب روپے ہو گئے۔
نو ماہ میں بینک نے کریڈٹ نقصان کے ذخائر میں 1.733 ارب روپے کی خالص واپسی ریکارڈ کی۔ گزشتہ سال اسی مدت میں 3.182 ارب روپے کا خالص چارج لگا تھا۔
بینک نے 4 ارب روپے کا اپنا چھٹا ٹیر ٹو ٹرم فنانس سرٹیفکیٹ اجرا بھی مکمل کیا۔ 30 ستمبر 2026 کو کیپٹل ایڈیکویسی ریشو 13.30 فیصد رہا۔
بینک کے صدر اور سی ای او باصر شمسی نے کہا: "Our nine-month performance reflects the steady progress we are making in strengthening JS Bank's financial position and growing our core business. The continued growth in deposits, improvement in our low-cost deposit mix, and disciplined cost management are encouraging. We remain focused on sustainable growth, enhancing customer experience, and supporting the financing needs of key sectors of Pakistan's economy."
یہ کیوں اہم ہے
نتائج ایک لسٹڈ پاکستانی بینک کی مالی حالت ظاہر کرتے ہیں، جو پاکستان میں اس کے کھاتے داروں اور شیئر ہولڈرز کے لیے اہم ہے۔



