ہیبرون کے گورنر کا اعلان: دس روزہ محاصرے کے بعد اسرائیلی فورسز نکل گئیں
ہیبرون کے گورنر خالد دودین نے پیر کو بتایا کہ اسرائیلی فورسز پورے شہر سے نکل گئی ہیں۔ ان کے مطابق بے گھر ہونے والے خاندان اب واپس آ سکتے ہیں۔

- گورنر خالد دودین کے مطابق اسرائیلی فورسز پیر کو پورے ہیبرون سے نکل گئیں۔
- کارروائی 23 اکتوبر کو دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی تھی۔
- مقامی حکام کے مطابق 3,300 سے زیادہ فلسطینی بے گھر یا متاثر ہوئے۔
- میئر کے مطابق روزانہ معاشی نقصان 12 ملین شیکل سے زیادہ رہا۔
ہیبرون کے گورنر خالد دودین نے پیر کو اعلان کیا کہ اسرائیلی فورسز مغربی کنارے کے شہر ہیبرون سے مکمل طور پر نکل گئی ہیں، یوں دس روزہ محاصرہ ختم ہو گیا۔ یہ بات انادولو ایجنسی اور الجزیرہ نے رپورٹ کی۔ عرب نیوز نے ایک فوجی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی فوج کارروائی مکمل کر کے واپس چلی گئی۔
دودین کے مطابق فلسطینی سکیورٹی فورسز نے علاقے کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو خاندان گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے وہ اب واپس آ سکتے ہیں۔ دودین نے کہا: "متعلقہ حکام اور فلسطینی سکیورٹی فورسز زمینی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور رہائشیوں کی محفوظ واپسی کے لیے ضروری حالات فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں" (انگریزی سے ترجمہ)۔
اسرائیلی فوج نے یہ کارروائی 23 اکتوبر کو شروع کی تھی، جب دو فلسطینیوں کے فائرنگ کے حملے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔ اسرائیلی فورسز نے بعد میں دونوں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔ کارروائی کے دوران شہر اور اطراف کے دیہات بند رکھے گئے۔
ہیبرون گورنری کے مطابق 3,300 سے زیادہ فلسطینی بے گھر یا متاثر ہوئے، خاص طور پر الجلدہ اور عین دیر بہا کے علاقوں میں۔ ان علاقوں میں اسرائیلی فورسز نے گھروں پر قبضہ کر کے انہیں فوجی چوکیوں میں بدل دیا۔ گورنری کے مطابق 15 گھر اور دیگر عمارتیں مسمار کی گئیں۔
ہیبرون کے میئر یوسف الجبری نے ہفتے کو الجزیرہ کو بتایا کہ روزانہ معاشی نقصان 12 ملین شیکل (38 لاکھ ڈالر) سے زیادہ رہا۔ ان کے مطابق 327 کاروبار بند کرنے پر مجبور ہوئے اور تقریباً 80,000 طلبہ دس دن تک اسکول نہ جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہیبرون فلسطینی معیشت کا تقریباً 40 فیصد ہے۔
فلسطینی اقتصادی پالیسی تحقیقی ادارے کے ماہر معاشیات یوسف داس نے کہا کہ تاجروں نے تباہ شدہ مال، دکانوں اور ورکشاپس کی مد میں 2 کروڑ ڈالر تک کے نقصان کی اطلاع دی۔ ان کے بقول یہ چھوٹے اور درمیانے خاندانی کاروبار ہیں جن کا عموماً بیمہ نہیں ہوتا اور بینک قرضے بھی باقی ہیں، یعنی مالک کاروبار کھو دیتا ہے مگر قرض باقی رہتا ہے۔
مغربی کنارے میں دیگر مقامات پر اقوام متحدہ کے ادارہ اوچا نے بتایا کہ اکتوبر میں آباد کاروں نے فلسطینیوں پر 397 حملے کیے، جو 2006 میں نگرانی شروع ہونے کے بعد کسی ایک ماہ کی بلند ترین تعداد ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
فلسطین پاکستانیوں اور مسلم دنیا کے لیے بنیادی مسئلہ ہے، اس لیے مغربی کنارے کی صورتحال پر قارئین کی نظر رہتی ہے۔



