ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان6 ذرائع سے تصدیق شدہ

بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی نظر بندی میں 30 روز کی توسیع، لاہور ہائیکورٹ کو آگاہ

پنجاب حکومت نے بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنوں کی نظر بندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے بازیابی کی درخواست نمٹا دی۔

A gavel rests inside the court room of the 100th Air Refueling Wing base legal office at RAF Mildenhall, England, May 28, 2019. The attorneys in the legal offi…
A gavel rests inside the court room of the 100th Air Refueling Wing base legal office at RAF Mildenhall, England, May 28, 2019. The attorneys in the legal offi… تصویر: U.S. Air Force photo by Airman 1st Class Joseph B… / Wikimedia Commons
اہم نکات
  • علیمہ خانم، عظمیٰ خانم اور نورین نیازی کی نظر بندی میں 30 روز کی توسیع
  • سرکاری وکیل کے مطابق توسیع 7 اکتوبر کو کی گئی
  • ہوم سیکرٹری کی رپورٹ دیکھ کر عدالت نے علیمہ خانم کے بیٹے کی درخواست نمٹا دی
30 دننظر بندی میں توسیع
7 اکتوبرتوسیع کی تاریخ
20 اکتوبردرخواست دائر ہونے کی تاریخ

پنجاب حکومت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں علیمہ خانم، عظمیٰ خانم اور نورین نیازی کی نظر بندی میں مزید 30 دن کی توسیع کر دی ہے۔ یہ بات پیر کو لاہور ہائیکورٹ کو بتائی گئی۔

سرکاری وکیل نے بہنوں کی رہائی سے متعلق درخواست پر پنجاب کے ہوم سیکرٹری کی تیار کردہ رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔ وکیل کے مطابق ڈپٹی کمشنر نے حکومت کو نظر بندی بڑھانے کی تجویز بھیجی تھی، جسے حکومت نے منظور کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ توسیع 7 اکتوبر کو کی گئی۔

جیو نیوز کے مطابق علیمہ خانم کو 20 ستمبر کو لاہور میں ایم پی او کی دفعہ 3 کے تحت حراست میں لے کر کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا۔ ان کی بہنوں نورین اور عظمیٰ کو ایک دن بعد پولیس کی سفارش پر اسی دفعہ کے تحت حراست میں لیا گیا۔ یہ گرفتاریاں پی ٹی آئی کے ملک گیر احتجاج سے پہلے ہوئیں، جس میں 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ بھی شامل تھا۔

درخواست علیمہ خانم کے بیٹے شہریز خان نے 20 اکتوبر کو دائر کی تھی۔ گزشتہ سماعت پر عدالت نے پنجاب کے ہوم سیکرٹری اور کوٹ لکھپت جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو 28 اکتوبر کو طلب کیا تھا۔ درخواست گزار کے وکیل نے بتایا تھا کہ نظر بندی کے احکامات 19 اور 20 اکتوبر کو ختم ہو چکے تھے۔

جسٹس عبہر گل خان نے سماعت کی۔ ہوم سیکرٹری اور جیل سپرنٹنڈنٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ علیمہ خانم کے بیٹے اور عظمیٰ خانم کے شوہر احد خان بھی موجود تھے۔ درخواست گزار کی طرف سے رانا مدثر عمر ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔

درخواست گزار کے وکیل نے استدعا کی کہ تینوں بہنوں کو بازیاب کرا کے عدالت میں پیش کیا جائے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق وکیل نے کہا کہ انہیں علم ہے کہ اس معاملے میں 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم سامنے آئے گی۔ عدالت نے کہا کہ وہ درخواست سے باہر جا کر کوئی حکم نہیں دے سکتی۔

عدالت نے نوٹ کیا کہ نظر بندی کا نوٹیفکیشن ڈپٹی کمشنر نے جاری کیا تھا، مگر درخواست گزار نے اس افسر کو فریق نہیں بنایا۔ ہوم سیکرٹری کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے درخواست نمٹا دی۔

یہ کیوں اہم ہے

ایک بڑی سیاسی جماعت کے بانی کے قریبی رشتہ داروں کی نظر بندی پاکستان میں سیاسی اور قانونی طور پر قریب سے دیکھا جانے والا معاملہ ہے۔ درخواست نمٹنے کے بعد بہنیں توسیع شدہ حکم کے تحت نظر بند ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

عمران خانلاہور ہائیکورٹپی ٹی آئی

اس خبر پر مزید