ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان6 ذرائع سے تصدیق شدہ

ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی اے ٹی سی ٹرائل پر سپریم کورٹ میں اپیل

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے انسدادِ دہشت گردی کیس کا ٹرائل روکنے سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ٹرائل کورٹ نے جلدبازی کی اور استغاثہ کے گواہوں کے بیانات ایک ہی دن میں ریکارڈ کیے۔

Photo: us supreme court building, washington dc, gov, government
Photo: us supreme court building, washington dc, gov, government تصویر: MarkThomas / Pixabay
اہم نکات
  • پیر 26 اکتوبر کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر، ہائیکورٹ کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا
  • درخواست گزاروں کے مطابق ٹرائل نہ رکا تو ہائیکورٹ میں زیرِ التوا درخواست غیر مؤثر ہو جائے گی
  • اے ٹی سی نے 7 اکتوبر کو رکاوٹیں ہٹانے کے کیس میں فردِ جرم عائد کی تھی
7 اکتوبراے ٹی سی میں فردِ جرم
19 اکتوبرچیلنج کیا گیا ہائیکورٹ حکمنامہ
7ریکارڈ کیے گئے استغاثہ کے گواہ

انسانی حقوق کی وکلا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے پیر کو انسدادِ دہشت گردی کے ایک مقدمے میں ٹرائل روکنے کی درخواست سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا، ایکسپریس ٹریبیون اور اے پی پی کے مطابق۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اپیل ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کے ذریعے دائر کی گئی۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ ٹرائل فوری طور پر نہ روکا گیا تو ہائیکورٹ میں ان کی زیرِ التوا درخواست غیر مؤثر ہو جائے گی۔ ان کے بقول ٹرائل کورٹ نے مناسب وقت دیے بغیر جلدبازی میں کارروائی شروع کی اور استغاثہ کے گواہوں کے بیانات ایک ہی دن میں ریکارڈ کیے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق دو گواہوں پر جرح کا موقع نہیں دیا گیا۔ سپریم کورٹ سے استدعا ہے کہ ہائیکورٹ کا 19 اکتوبر کا حکمنامہ کالعدم قرار دے کر ٹرائل کورٹ کو کارروائی سے روکا جائے۔

اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سکیورٹی رکاوٹیں ہٹانا دہشت گردی نہیں بنتا۔ درخواست گزاروں کا الزام ہے کہ ٹرائل انہیں ہراساں کرنے اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے ہے اور مقصد انہیں قید میں رکھنا ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 7 اکتوبر کو دونوں پر فردِ جرم عائد کی۔ یہ مقدمہ ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے دورے کے دوران رکاوٹیں ہٹانے اور مقررہ روٹ میں خلل ڈالنے کے مبینہ الزام سے متعلق ہے۔ عدالت نے بعد میں تمام 7 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے اور کیس جرح کے مرحلے میں ہے۔ ملزمان کی پیشی اور وکلا کی رسائی پر اختلافات کے بعد ٹرائل اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا۔

دوسری جانب دونوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی ٹرائل معطل کرنے کی استدعا کی، جس میں فردِ جرم کے وقت جسمانی طور پر پیش نہ کیے جانے اور متعلقہ دستاویزات کی نقول نہ ملنے سمیت طریقہ کار کی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا گیا۔ 19 اکتوبر کو ہائیکورٹ نے کہا کہ فریقین کو سننے کے بعد حکم جاری کرے گی۔ انسدادِ دہشت گردی دفعات ختم کرنے کی درخواستوں پر عبوری حکم کی استدعا مسترد کی گئی، تاہم ٹرائل معطل کرنے کی الگ درخواست پر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کیے گئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق جسٹس انعام امین منہاس اور جسٹس شاہ رخ ارجمند پر مشتمل بینچ نے جیل ٹرائل اور اسٹیٹ کونسل کی تعیناتی کے خلاف درخواست بھی سنی۔ وکلا نے مؤقف اپنایا کہ جیل ٹرائل کا فیصلہ کرنے سے پہلے ملزمان کو سننا ضروری تھا۔ ان کے مطابق سمری ایس پی اسلام آباد نے شروع کی اور چیف کمشنر نے منظور کی، جبکہ اختیار وفاقی حکومت کا ہے۔ جسٹس منہاس نے پوچھا کہ مسئلہ کیا ہے اور اختیار کس کا ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق دونوں کو 17 ستمبر کو دوبارہ گرفتار کیا گیا، جب سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا پوسٹس کے الگ کیس میں انہیں ضمانت دے کر سزائیں معطل کی تھیں۔ پولیس نے 30 دن کا جسمانی ریمانڈ مانگا، مگر جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے مسترد کرتے ہوئے جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا اور کہا کہ ایف آئی آر میں غیر قانونی اجتماع کے ارکان کے طور پر نامزد ہونے کے باوجود کسی ملزم سے ہتھیار منسوب نہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

یہ مقدمہ ایک نمایاں وکیل جوڑے اور انسدادِ دہشت گردی ٹرائل کے طریقۂ کار سے متعلق ہے اور سپریم کورٹ و اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

ایمان مزاریسپریم کورٹاے ٹی سی ٹرائل

اس خبر پر مزید