ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان8 ذرائع سے تصدیق شدہ

اسلام آباد ہائی کورٹ کا آن لائن ہراسانی اور بلیک میلنگ کے قوانین پر عملدرآمد کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور نجی مواد کی غیر مجاز تشہیر کے خلاف قوانین پر عملدرآمد کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے پی ٹی اے، پیمرا اور این سی سی آئی اے سے جامع رپورٹ طلب کر لی ہے۔

Photo: bullying, cyber bullying, bullying on social media, social media
Photo: bullying, cyber bullying, bullying on social media, social media تصویر: 11082974 / Pixabay
اہم نکات
  • ہائی کورٹ کا آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور نجی مواد کی غیر مجاز تشہیر کے قوانین پر عملدرآمد کا حکم
  • پی ٹی اے، پیمرا اور این سی سی آئی اے جامع رپورٹ جمع کرائیں
  • وزارت آئی ٹی اور دیگر ادارے اجلاس میں قانونی، انتظامی اور تکنیکی رکاوٹوں کی نشاندہی کریں
  • پی ٹی اے کی رپورٹ میں مختلف پلیٹ فارمز پر مواد بلاک کرنے کی شرح شامل
48.42 فیصدایکس پر مواد بلاک کرنے کی شرح
88.68 فیصدٹک ٹاک پر مواد بلاک کرنے کی شرح
87.34 فیصدیوٹیوب پر مواد بلاک کرنے کی شرح

اسلام آباد ہائی کورٹ نے آن لائن ہراسانی اور بلیک میلنگ سے تحفظ کے قوانین پر عملدرآمد کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم نجی مواد کی غیر مجاز تشہیر اور ڈیجیٹل میڈیا کے غلط استعمال کی روک تھام سے بھی متعلق ہے۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے تحریری حکم نامہ جاری کیا۔ اس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، پیمرا اور نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو ہدایت کی گئی کہ وہ متعلقہ قوانین پر عملدرآمد اور شکایات کے ازالے کے اقدامات سے متعلق جامع رپورٹ جمع کرائیں۔

عدالت نے وزارت آئی ٹی اور دیگر متعلقہ وزارتوں یا محکموں کو اجلاس بلانے کی بھی ہدایت کی۔ ان اداروں سے کہا گیا کہ وہ عملدرآمد میں قانونی، انتظامی اور تکنیکی رکاوٹوں کی نشاندہی کریں، بتائیں کہ انہیں دور کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے یا تجویز کیے گئے، اور یہ بھی واضح کریں کہ اداروں کے درمیان کہاں رابطہ کاری درکار ہے۔

پی ٹی اے کی جمع کرائی گئی تحریری رپورٹ کو بھی عدالتی حکم نامے کا حصہ بنایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق غیر قانونی مواد بلاک کرنے کی شرح ایکس (ٹوئٹر) پر 48.42 فیصد، فیس بک پر 78.57 فیصد اور انسٹاگرام پر 79.52 فیصد رہی، جبکہ یوٹیوب پر 87.34 فیصد اور ٹک ٹاک پر 88.68 فیصد مواد بلاک کرایا جا سکا۔

مواد کی اقسام کے لحاظ سے پی ٹی اے رپورٹ میں پاکستان کے دفاع اور سیکیورٹی سے متعلق مواد بلاک کرنے کی شرح 59.1 فیصد بتائی گئی۔ دہشت گردی سے متعلق مواد کی درخواستوں پر عملدرآمد کی شرح 79.51 رہی، عظمتِ اسلام کے خلاف مواد کا 76.54 فیصد اور شائستگی و اخلاقیات سے متعلق 98.91 فیصد مواد بلاک ہوا، جبکہ فرقہ وارانہ اور نفرت انگیز مواد کے لیے یہ شرح 64.43 فیصد رہی۔

حکم نامے کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیوں سے پی ٹی اے کے ساتھ رجسٹریشن کے تقاضے پورے کرنے اور شکایات کے ازالے کے لیے مقامی افسران مقرر کرنے کو کہا گیا تھا، مگر کوئی مثبت جواب موصول نہیں ہوا۔ پی ٹی اے کے مطابق سوشل میڈیا آپریٹرز اکثر مواد ہٹانے کی درخواستیں مسترد کر دیتے ہیں۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ انسدادِ الیکٹرانک جرائم ایکٹ میں سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کا تصور دیا گیا ہے، جسے غیر قانونی مواد ہٹانے یا بلاک کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہوں گے۔ عدالت نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا متعلقہ قوانین اور قواعد کے تحت مجاز حکام کے قانونی اختیارات استعمال ہو رہے ہیں، اور پیمرا، پی ٹی اے اور این سی سی آئی اے کے درمیان رابطہ کاری کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

آن لائن ہراسانی اور بلیک میلنگ پاکستان میں بہت سے لوگوں کو متاثر کرتی ہے، اور عدالتی حکم سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان قوانین پر کیسے عمل ہوگا اور پی ٹی اے، پیمرا اور این سی سی آئی اے سے کس رابطہ کاری کی توقع ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

اسلام آباد ہائی کورٹپی ٹی اےآن لائن ہراسانی

اس خبر پر مزید