ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان3 ذرائع سے تصدیق شدہ

اسلام آباد ہائیکورٹ کا سفری پابندیوں کے خلاف درخواست پر نوٹس جاری

اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہریوں پر سفری پابندیوں کے خلاف درخواست پر سیکریٹری داخلہ اور دیگر حکام سے جواب طلب کر لیا ہے۔ درخواست میں پاسپورٹ کنٹرول لسٹوں اور پاسپورٹ رولز کے ایک حصے کو چیلنج کیا گیا ہے۔

Photo: judge, hammer, judgement, court
Photo: judge, hammer, judgement, court تصویر: Daniel_B_photos / Pixabay
اہم نکات
  • عدالت نے سیکریٹری داخلہ، ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو نوٹس جاری کیے۔
  • درخواست میں پی این آئی ایل، بلیک لسٹ، اسٹاپ لسٹ اور پاسپورٹ رول کے ایک حصے کو چیلنج کیا گیا ہے۔
  • کیس دسمبر کے پہلے ہفتے میں مقرر کیا جائے گا۔
رول 22(2)(b)، پاسپورٹ رولز 2021چیلنج کیا گیا رول
دسمبر کا پہلا ہفتہاگلی سماعت

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بدھ کو بیرون ملک سفر کرنے والے پاکستانی شہریوں پر مبینہ غیر ضروری سفری پابندیوں کے خلاف درخواست پر نوٹس جاری کر دیے۔ درخواست میں مختلف سفری کنٹرول لسٹوں کی قانونی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق جسٹس ارباب محمد طاہر پر مشتمل سنگل رکنی بینچ نے سیکریٹری داخلہ، ڈائریکٹر امیگریشن اور ڈائریکٹر جنرل وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کو نوٹس جاری کر کے جواب مانگا۔ یہ درخواست جوڈیشل ایکٹوازم پینل نے اپنے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی۔

ڈیلی پاکستان اردو کے مطابق قانونی نکتے پر عدالت کی معاونت کے لیے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق عدالت نے کیس دسمبر کے پہلے ہفتے میں سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کی۔

درخواست میں پاسپورٹ رولز اور پروونشل نیشنل آئیڈینٹیفکیشن لسٹ (پی این آئی ایل) کو چیلنج کیا گیا ہے۔ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاسپورٹ رولز 2021 کے رول 22(2)(b) کا دوسرا حصہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت غیر قانونی ہے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ شہریوں کو محض سرکاری اداروں یا محکموں کی سفارش پر پاسپورٹ کنٹرول لسٹوں میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ اس کے مطابق درست پاسپورٹ، ویزا اور کنفرم ٹکٹ رکھنے والوں کو بغیر پیشگی اطلاع اور وجوہات بتائے بیرون ملک سفر سے روک دیا جاتا ہے۔

درخواست گزار کے مطابق اس سے شہریوں کو ملازمت، تعلیم، علاج اور حج و عمرہ کی ادائیگی میں ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پی این آئی ایل، بلیک لسٹ اور اسٹاپ لسٹ کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزارت داخلہ، امیگریشن و پاسپورٹس، ایف آئی اے اور نادرا کو ہدایت کی جائے کہ وہ ایک مربوط اور شفاف پاک ٹریول اسٹیٹس پورٹل بنائیں تاکہ شہری اپنی سفری حیثیت جان سکیں۔

یہ کیوں اہم ہے

ملازمت، تعلیم، علاج، حج یا عمرہ کے لیے بیرون ملک جانے والے پاکستانی شہری سفری کنٹرول لسٹوں کے استعمال سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق لوگوں کو بغیر اطلاع اور وجوہات کے روکا جاتا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

اسلام آباد ہائیکورٹسفری پابندیاںایف آئی اے

اس خبر پر مزید