اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایم پی او نظربندی کی درخواستیں غیر موثر قرار دے کر نمٹا دیں
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے عادل بازئی، داوڑ کنڈی، خوشدل خان اور ن لیگی کارکن کی نظربندی کی درخواستیں نمٹا دیں۔ عدالت نے کہا کہ 21 ستمبر 2026 کے احکامات کا اثر ختم ہو چکا، تاہم اس سے نظربندی قانونی قرار نہیں پاتی۔

- جسٹس خادم حسین سومرو نے چار درخواست گزاروں کے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔
- 21 ستمبر 2026 کے نظربندی احکامات کا قانونی اثر ختم ہونے پر درخواستیں غیر موثر قرار پائیں۔
- 3 اکتوبر 2026 کے احکامات چیلنج نہ ہونے پر عدالت نے ان پر رائے نہیں دی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے دو ارکان اسمبلی اور ایک ن لیگی کارکن کی مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت نظربندی کے خلاف درخواستیں نمٹا دی ہیں۔ یہ خبر منگل کو 24 نیوز نے رپورٹ کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے عادل بازئی، داوڑ کنڈی، خوشدل خان اور ن لیگی کارکن بشارت اللہ کی درخواستوں پر تحریری فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے 21 ستمبر 2026 کے نظربندی احکامات کا قانونی اثر ختم ہونے کی بنا پر درخواستیں غیر موثر قرار دیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ درخواستیں نمٹانے کا مطلب نظربندی کو قانونی یا آئینی قرار دینا نہیں۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق عدالت نے یہ بھی کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد ہائیکورٹ درخواست کے مندرجات یا استدعا سے ہٹ کر ازخود احکامات جاری نہیں کر سکتی۔
3 اکتوبر 2026 کے نظربندی احکامات کی قانونی حیثیت پر عدالت نے کوئی رائے نہیں دی، کیونکہ بعد کے ان احکامات کو اس کے سامنے چیلنج نہیں کیا گیا۔ متعلقہ ریکارڈ کے بغیر ان کی قانونی حیثیت کا تعین ممکن نہیں تھا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت قیاس آرائی یا ایسے مواد کی بنیاد پر آئینی اختیار استعمال نہیں کر سکتی جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہ ہو۔
عدالت نے آبزرویشن دی کہ احتیاطی نظربندی کا غیر معمولی اختیار من مانے انداز میں استعمال نہیں ہو سکتا اور اسے آئین اور متعلقہ قانون کی حدود میں رہنا چاہیے۔
فیصلے کے مطابق نظربندی کی وجوہات پندرہ دن کے اندر زیر حراست شخص کو بتانا آئینی تقاضا ہے، اور اسے نظربندی کے خلاف مؤثر نمائندگی کا جلد از جلد موقع دینا لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ قانونی نمائندگی دائر نہ کرنے سے مبینہ غیر قانونی نظربندی آئینی جانچ پڑتال سے بالاتر نہیں ہو جاتی۔
یہ کیوں اہم ہے
یہ فیصلہ ایم پی او کے تحت احتیاطی نظربندی کی حدود واضح کرتا ہے، جس کا تعلق ملک بھر کے شہریوں اور سیاسی کارکنوں کے شہری حقوق سے ہے۔



