اسلام آباد ہائیکورٹ: بری ہونے والوں کے کریکٹر سرٹیفکیٹ میں مقدمے کا ذکر ممنوع
اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ عدالت سے بری ہونے والے شخص کے کریکٹر سرٹیفکیٹ میں پولیس فوجداری مقدمے کا ذکر نہیں کر سکتی۔ عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو اس کے لیے طریقہ کار بنانے کی ہدایت کی ہے۔

- اسلام آباد ہائیکورٹ کے مطابق بری ہونے کے بعد کیس کا حوالہ کریکٹر سرٹیفکیٹ میں نہیں دیا جا سکتا۔
- آئی جی اسلام آباد کو طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت۔
- شہری کے سرٹیفکیٹ سے تھانہ شالیمار کی ایف آئی آر کا حوالہ ختم کرنے کا حکم۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ جو شخص عدالت سے بری ہو چکا ہو، پولیس اس کے کریکٹر سرٹیفکیٹ میں فوجداری مقدمے کا ذکر نہیں کر سکتی۔ جسٹس ایاز شوکت نے یہ فیصلہ مفادِ عامہ کے ایک مقدمے میں جاری کیا۔
عدالت نے حتمی بریت کے بعد کریکٹر سرٹیفکیٹ میں ایف آئی آر کا حوالہ دینا غیر قانونی قرار دیا۔ عدالت نے آئی جی اسلام آباد پولیس کو ہدایت کی کہ اس طرز عمل کو روکنے کے لیے طریقہ کار وضع کریں۔
یہ مقدمہ ایک شہری کی درخواست پر سنا گیا جس کے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ میں اسلام آباد کے تھانہ شالیمار میں درج ایف آئی آر کا حوالہ موجود تھا، حالانکہ فوجداری کارروائی اس کے حق میں ختم ہو چکی تھی۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے سرٹیفکیٹ سے ایف آئی آر کا حوالہ ختم کرنے کا حکم دیا اور پولیس کا جاری کردہ پہلا سرٹیفکیٹ غیر قانونی قرار دیا۔
پولیس نے سرٹیفکیٹ میں لکھا تھا کہ درخواست گزار تفتیش کے دوران ڈسچارج ہوا اور عدالت نے اس سے اتفاق کیا۔ ہائیکورٹ نے اس بیان کو غلط قرار دیا۔
عدالت نے کہا کہ پولیس سابقہ ایف آئی آرز کی معلومات اپنے اندرونی ریکارڈ میں رکھ سکتی ہے، مگر حتمی طور پر بری ہونے والوں کے کریکٹر سرٹیفکیٹ میں یہ درج نہیں ہو سکتیں، اس میں بیرون ملک سفر کے لیے دستاویزات حاصل کرنے والے شہری بھی شامل ہیں۔
عدالت کے مطابق بریت کے بعد ایف آئی آر کا ذکر آئین کے آرٹیکل 4، 9، 14 اور 15 کی خلاف ورزی ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق جسٹس ایاز شوکت نے کہا: "قانون شہریوں کو جو حق دے چکا اس کے لیے عدالت آنا ضروری نہیں۔"
ڈیلی پاکستان کے مطابق اس فیصلے سے ان شہریوں کو ریلیف ملے گا جنہیں الزامات سے بری ہونے کے باوجود ملازمت، بیرون ملک سفر یا پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ کے حصول میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
جو شہری فوجداری الزامات سے بری ہو چکے ہیں، انہیں اب ایسے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ مل سکتے ہیں جن میں مقدمے کا ذکر نہ ہو، جو ملازمت اور بیرون ملک سفر کے لیے اہم ہے۔



