نو مئی کیس: حماد اظہر جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیے گئے
لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے پولیس کی مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی۔ پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

- انسداد دہشتگردی عدالت نے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کی
- حماد اظہر کو منگل کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا گیا
- اب تک کل جسمانی ریمانڈ 50 روز بتایا گیا ہے
- استغاثہ کے مطابق پولی گرافک ٹیسٹ باقی تھا
لاہور کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے منگل کو پی ٹی آئی رہنما اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کے مزید جسمانی ریمانڈ کی پولیس کی استدعا مسترد کر دی اور انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ انہیں نو مئی کے جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز اور ڈیلی پاکستان کے مطابق جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر پولیس نے انہیں عدالت میں پیش کیا اور مزید جسمانی ریمانڈ مانگا۔ عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی۔ دونوں اداروں کے مطابق حماد اظہر کا مجموعی جسمانی ریمانڈ 50 روز ہو چکا ہے۔
24 نیوز کے مطابق یہ مقدمہ جناح ہاؤس پر حملے سے متعلق ہے۔ اس کے مطابق انسداد دہشتگردی عدالت کے ایڈمن جج سردار محمد اکرم خان نے فیصلہ سنایا۔ یہ بھی بتایا گیا کہ حماد اظہر کو 12 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران 24 نیوز کے مطابق سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کا پولی گرافک ٹیسٹ ابھی ہونا باقی ہے، اس لیے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی جائے۔
حماد اظہر کے وکیل ابو ذر نیازی نے کہا کہ اگر مقصد پولی گرافک ٹیسٹ ہے تو ان کے موکل کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا جائے۔ انہوں نے ہائیکورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کا ٹیسٹ صرف اس کی رضامندی سے ہو سکتا ہے۔
حماد اظہر نے بھی عدالت میں بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ استغاثہ کی لاعلمی کی سزا انہیں نہیں ملنی چاہیے۔ 24 نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ اگر قانون انہیں اختیار دیتا ہے تو وہ ٹیسٹ نہیں کرائیں گے۔
عدالت نے پولیس کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا۔ رپورٹس میں اگلی سماعت کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
یہ کیوں اہم ہے
نو مئی کے واقعات سے متعلق مقدمات ملکی سیاست اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور حامیوں سمیت کئی پاکستانیوں کے سیاسی مستقبل پر اثر ڈالتے ہیں۔



