ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان2 ذرائع سے تصدیق شدہ

تعمیراتی شعبے میں اصلاحات کی تیاری، ایک یا دو ادارے بنانے پر غور

وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ نے تعمیراتی شعبے کی اصلاحات پر اجلاس کی صدارت کی۔ انہوں نے کہا کہ صنعت کی نگرانی اور فروغ کے لیے ایک ادارہ یا دو الگ ادارے بنائے جاسکتے ہیں۔

Photo: excavator, construction site, vehicle, construction work
Photo: excavator, construction site, vehicle, construction work تصویر: Didgeman / Pixabay
اہم نکات
  • احد چیمہ نے 28 اکتوبر کو اسلام آباد میں تعمیراتی اصلاحات پر اجلاس کی صدارت کی۔
  • ایک ادارہ یا دو الگ ادارے بنائے جاسکتے ہیں، ایک ریگولیٹری اور دوسرا فروغ کے لیے۔
  • پیپرا بڑے منصوبوں کے لیے ڈیفکٹ لائبلٹی پیریڈ 3 سال یا اس سے زائد کرنے پر کام شروع کرے گا۔
20 ارب روپے یا زائدڈیب کے لیے کیپ کی تجویز کردہ منصوبہ لاگت
3 سال یا زائدبڑے منصوبوں کے لیے مجوزہ ڈیفکٹ لائبلٹی پیریڈ

وفاقی وزیر اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد چیمہ نے 28 اکتوبر کو اسلام آباد میں اجلاس کی صدارت کی، جس میں تعمیراتی شعبے کو مضبوط بنانے، منصوبوں کی تکمیل بہتر کرنے اور صنعت کو درپیش مسائل کے حل سے متعلق اصلاحات پر غور کیا گیا۔ یہ بات اے پی پی اور ایکسپریس نیوز کی رپورٹس میں بتائی گئی۔

اے پی پی کے مطابق اجلاس میں مجوزہ کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سیڈا) بل پر بات ہوئی۔ وزیر نے کہا کہ بل پر تفصیلی غور ضروری ہے، جس میں یہ بھی دیکھا جائے کہ شعبے کے لیے ایک ہی ادارہ بنایا جائے یا ایک سے زائد۔ ایکسپریس کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایک یا دو الگ ادارے بن سکتے ہیں، جن میں سے ایک ریگولیٹری کردار ادا کرے اور دوسرا صنعت کے فروغ کے لیے کام کرے۔

انہوں نے کہا کہ کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (کیپ) کے ساتھ نئے ادارے کے قیام پر مشاورت جلد مکمل کی جائے گی۔ سیکرٹری ہاؤسنگ نے مجوزہ اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی، جبکہ وزیر نے اصلاحات کے مختلف پہلوؤں پر مزید مشاورت کی ہدایت کی۔

بریفنگ میں ٹھیکیداروں کی ضمانتی رقوم کا معاملہ بھی آیا۔ تجویز زیر غور ہے کہ ڈیفکٹ لائبلٹی پیریڈ کے دوران یہ رقوم منافع بخش کھاتوں میں رکھی جائیں اور مدت مکمل ہونے پر اصل رقم منافع سمیت ٹھیکیداروں کو واپس کی جائے۔ اس کا مقصد تعمیراتی منصوبوں سے متعلق مالی معاملات کا طریقہ کار طے کرنا ہے۔

اجلاس میں منصوبوں کی نگرانی اور تنازعات کی روک تھام کے لیے ڈسپیوٹ اوائڈنس/ایڈجوڈیکیشن بورڈ (ڈیب) کے طریقہ کار پر سختی سے عمل پر زور دیا گیا۔ کیپ حکام نے 20 ارب روپے یا اس سے زائد لاگت کے منصوبوں پر اسے لاگو کرنے کی تجویز دی، تاہم احد چیمہ نے ہدایت کی کہ 20 ارب روپے سے کم لاگت کے منصوبوں پر بھی یہی فارمولا لاگو کیا جائے۔ ان کے مطابق منصوبوں کی لاگت کے تعین پر مزید مشاورت ہوگی۔

وزیر نے بتایا کہ شعبے کے آئندہ فریم ورک کی تیاری میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف کنسلٹنگ انجینئرز (فڈک) کے قواعد اور معیار سے رہنمائی لی جارہی ہے۔ ان کے مطابق پیپرا بڑے منصوبوں کے لیے ڈیفکٹ لائبلٹی پیریڈ 3 سال یا اس سے زائد مقرر کرنے پر کام شروع کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مدت بڑھانے سے ٹھیکیدار معیاری کام کریں گے اور تین سالہ مدت مرحلہ وار چھوٹے منصوبوں تک بھی بڑھائی جائے گی۔

اجلاس میں وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، سیکرٹری ہاؤسنگ کیپٹن (ر) محمد محمود، ایم ڈی پیپرا، پلاننگ کمیشن اور کیپ کے حکام نے شرکت کی۔

یہ کیوں اہم ہے

تعمیرات پاکستان میں روزگار کا بڑا ذریعہ ہے، اور ٹھیکیداروں کے قواعد، نگرانی اور معیار میں تبدیلیاں اس شعبے سے وابستہ افراد اور سرکاری منصوبوں کی تکمیل پر اثر ڈال سکتی ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

تعمیراتاحد چیمہپیپرا

اس خبر پر مزید