ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان6 ذرائع سے تصدیق شدہ

2027 کی گندم کی قیمت 4500 روپے فی من مقرر، حکومت کا اعلان

وفاقی حکومت نے 2027 کی گندم کے لیے 4500 روپے فی من امدادی قیمت مقرر کی ہے جو گزشتہ سال سے 1000 روپے زیادہ ہے۔ وفاقی وزیر کے مطابق قیمت کا تعین تمام صوبوں کی مشاورت سے کیا گیا۔

Photo: wheat, field, cereals, wheat field
Photo: wheat, field, cereals, wheat field تصویر: Candiix / Pixabay
اہم نکات
  • 2027 کی فصل کے لیے گندم کی اشارتی قیمت 4500 روپے فی من، گزشتہ سال 3500 روپے تھی
  • حکومت 60 لاکھ میٹرک ٹن تک اسٹریٹجک ذخائر رکھے گی
  • پاسکو ذخائر سے صوبوں کو 13 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم دی جا چکی
4500 روپے فی من2027 کی فصل کی اشارتی قیمت
3500 روپے فی منگزشتہ سال کی قیمت
60 لاکھ میٹرک ٹن تکاسٹریٹجک ذخائر
13 لاکھ میٹرک ٹن سے زائدپاسکو سے صوبوں کو فراہمی

وفاقی حکومت نے 2027 کی گندم کی فصل کے لیے 4500 روپے فی من اشارتی امدادی قیمت مقرر کر دی ہے۔ گزشتہ سال یہ قیمت 3500 روپے تھی، یوں اس میں 1000 روپے فی من اضافہ کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا کہ نئی قیمت کا تعین تمام صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد کسانوں کے معاشی مفادات کا تحفظ اور انہیں پیداوار کی مناسب قیمت دینا ہے۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق 40 سال بعد جامع قومی گندم پالیسی بھی تیار کی گئی ہے۔

وزیر نے اس فیصلے کو متوازن اقدام قرار دیا جس کا مقصد کسانوں کی مدد اور ملکی پیداوار میں اضافہ ہے، اور امید ظاہر کی کہ کسان گندم کی کاشت بڑھائیں گے۔

ہفتے کو ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں زرعی ماہرین نے کہا کہ بلند قیمت سے کاشتکاروں کو بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور مہنگائی کے دباؤ سے نمٹنے میں مدد ملے گی، ان کی آمدن بہتر ہوگی اور پیداوار بڑھانے کی ترغیب ملے گی۔ ان کے مطابق اس سے قومی غذائی تحفظ بھی مضبوط ہوگا۔

رانا تنویر حسین نے بتایا کہ رواں سال 60 لاکھ میٹرک ٹن تک اسٹریٹجک ذخائر برقرار رکھے جائیں گے۔ ان کے مطابق ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں، کوئی قلت نہیں ہوگی اور عوام کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاسکو کے ذخائر سے اب تک صوبوں کو 13 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم دی جا چکی ہے۔ صوبائی طلب کے مطابق ساڑھے 5 لاکھ میٹرک ٹن تک گندم درآمد کرنے کے انتظامات بھی ہو سکتے ہیں، تاہم حکومت درآمد کے بجائے مقامی کسانوں سے خریداری کو ترجیح دے گی۔

وزیر نے گندم کی حالیہ قیمتوں میں اضافے کو مصنوعی قرار دیا اور کہا کہ بعض عناصر کی منڈی میں مداخلت سے قیمتیں بڑھیں، جو چند روز میں معمول پر آ جائیں گی۔ مصنوعی قلت اور بلاجواز مہنگائی روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور وفاقی حکومت منڈی اور قیمتوں کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔

ان کے مطابق بیج، زیتون اور بائیوٹیکنالوجی سے متعلق پالیسیاں بنائی گئی ہیں، اور قومی گندم پالیسی پر عملدرآمد کے لیے صوبائی حکومتوں اور کسان تنظیموں سے مشاورت جاری رہے گی۔

یہ کیوں اہم ہے

نئی امدادی قیمت ملک بھر کے گندم کاشتکاروں پر اثر انداز ہوتی ہے، جبکہ ذخائر اور قیمتوں سے متعلق حکومتی بیانات صارفین کے لیے بھی اہم ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

گندمکسانغذائی تحفظ

اس خبر پر مزید