گورنر راج مسترد، وزیراعلیٰ کے پی کا پتا نہیں: بیرسٹر گوہر
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ گورنر راج کے بعد سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کچھ پتا نہیں۔ انہوں نے گورنر راج اور ایمرجنسی کو مسترد کرتے ہوئے سیاسی انتقام کا الزام لگایا۔

- گوہر کے مطابق گورنر راج کے بعد سے وزیراعلیٰ کے پی کا پتا نہیں
- گورنر راج اور ایمرجنسی مسترد، مگر دہشت گردی ختم ہونی چاہیے
- بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی نظر بندی میں 30 روز توسیع کی مذمت
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے بعد سے وزیراعلیٰ کا کچھ پتا نہیں۔ ایکسپریس نیوز اور ڈیلی پاکستان کے مطابق انہوں نے یہ بات پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہی۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے نام پر پی ٹی آئی کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی ان دونوں اقدامات کو مسترد کرتی ہے۔ ان کے بقول دہشت گردی ختم ہونی چاہیے اور اس پر کوئی دو رائے نہیں۔
انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی نظر بندی میں 30 روز کی توسیع کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ علیمہ خانم غیر سیاسی ہیں، اس کے باوجود ان کی نظر بندی بڑھائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے بارہ ارکان قومی اسمبلی کو رکھا ہوا ہے جبکہ وزیراعلیٰ کا کوئی پتا نہیں۔
بیرسٹر گوہر نے مزید الزام لگایا کہ کارکنوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے، چھاپے مارے جا رہے ہیں اور خیبرپختونخوا میں پارٹی کے جھنڈے اتارے جا رہے ہیں۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کو ذمہ داری دی تھی اور ان کے خیال میں انہوں نے بہترین کارکردگی دکھائی ہے۔
24 نیوز کے مطابق بیرسٹر گوہر نے صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے کسی بھی اقدام کو مسترد کیا۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے خبردار کیا کہ دہشت گردی کو بہانہ بنا کر سیاسی انتقام لینے سے سیاسی انتشار پیدا ہوگا اور ملک مزید عدم استحکام کا شکار ہوگا، اور انہوں نے سیاسی مکالمے پر زور دیا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے پارلیمنٹ ہاؤس میں جیو نیوز سے گفتگو میں کہا کہ آئین کے مطابق وزیراعلیٰ اور اسپیکر کو اس طرح قید میں نہیں رکھا جا سکتا اور نہ انہیں نامعلوم بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول آئین شکنی ہو چکی اور حکومت مزید خلاف ورزی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کو فوری اہم فیصلے کرنا ہیں، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ پولیٹیکل کمیٹی اور کور کمیٹی ختم ہو گئیں۔
یہ کیوں اہم ہے
خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی اقدامات صوبے کے انتظام کو بدلتے ہیں اور ملک بھر کی سیاسی جماعتوں پر اثر ڈالتے ہیں۔



