گوہر کا عمران خان سے ملاقاتیں فوری بحال کرنے کا مطالبہ
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے منگل کو کہا کہ عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی کو 375 دن ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ملاقاتیں فوری بحال کرنے اور حکومت سے مذاکرات کا مطالبہ کیا۔

- گوہر کے مطابق عمران خان تک رسائی 375 دن سے محدود ہے
- ان کا کہنا ہے کہ منگل ملاقات کا مقررہ دن ہے، حکومت سے مذاکرات کا مطالبہ
- خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج مسترد
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے منگل کو مطالبہ کیا کہ پارٹی کے بانی عمران خان سے ملاقاتیں فوری طور پر بحال کی جائیں۔ ان کے مطابق ملاقاتوں پر پابندی کو 375 دن ہو گئے ہیں۔
پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں گوہر نے کہا کہ منگل عمران خان سے ملاقات کا مقررہ دن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "آج پی ٹی آئی کے بانی سے ملاقات کا دن ہے اور ملاقات ہونی چاہیے"۔ انہوں نے حکام سے کہا کہ پارٹی رہنماؤں اور اہل خانہ کو ان سے ملنے دیا جائے۔
گوہر نے عمران خان کو اہل خانہ سے ملے بغیر جیل میں رکھنے کو "غیر انسانی سلوک" قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقاتیں باقاعدگی سے ہوتیں تو سیاسی صورت حال بہتر ہو سکتی تھی۔ ان کے بقول پابندیوں سے سیاسی معاملات میں پیچیدگیاں پیدا ہوئیں جبکہ سیاسی کشیدگی اور انتقامی کارروائیاں بڑھ رہی ہیں۔
انہوں نے سیاسی مخالفین پر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا الزام بھی لگایا۔ گوہر کے مطابق اس بارے میں تفصیلات سینیٹرز اور ارکان پارلیمنٹ کے اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔
مذاکرات کے بارے میں گوہر نے کہا کہ سیاسی مسائل بات چیت ہی سے حل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے جلد بامعنی مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔
ایک روز پہلے انہوں نے وفاقی حکومت پر الزام لگایا تھا کہ وہ گورنر راج اور ایمرجنسی کو سیاسی انتقام کے بہانے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی دونوں اقدامات کو مسترد کرتی ہے، تاہم دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے۔ ان کا الزام تھا کہ ان اقدامات سے صوبے کے سکیورٹی مسائل حل کرنے کے بجائے پی ٹی آئی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
گوہر نے عمران خان کی بہنوں کی حراست میں 30 دن کی توسیع کی مذمت بھی کی اور کہا کہ علیمہ خان غیر سیاسی شخصیت ہیں۔ ان کے مطابق قومی اسمبلی کے 12 پی ٹی آئی ارکان زیر حراست ہیں اور پارٹی کو اپنے وزیر اعلیٰ کے ٹھکانے کا علم نہیں۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے 11 اکتوبر کو وزیر اعظم شہباز شریف کی تجویز اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری دی۔ حکومت نے دہشت گرد حملوں میں اضافے اور آئینی نظام کے ناکام ہونے کا حوالہ دیا۔ ان اقدامات میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 استعمال کیے گئے اور سول انتظامیہ کی مدد کے لیے فوج کی تعیناتی کی اجازت دی گئی۔
یہ کیوں اہم ہے
عمران خان تک رسائی اور حکومت و پی ٹی آئی کے درمیان رکے ہوئے مذاکرات ملک بھر کے ان قارئین کے لیے اہم ہیں جو سیاسی صورت حال پر نظر رکھتے ہیں، خصوصاً خیبر پختونخوا میں جہاں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ ہے۔



