چیئرمین پی ٹی آئی گوہر کا عمران خان کی بہنوں کی رہائی کا مطالبہ
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے عمران خان کی بہنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خواتین کی گرفتاری سے تلخی اور تناؤ بڑھ رہا ہے۔

- گوہر نے نورین بی بی اور عمران خان کی دو دیگر بہنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
- ان کے مطابق خواتین کی گرفتاری سے تلخی اور تناؤ بڑھ رہا ہے۔
- نورین بی بی سینے میں درد کے بعد پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں داخل ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے جمعرات کو عمران خان کی بہنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ ڈیلی جنگ اور ڈیلی پاکستان کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی گرفتاری سے تلخی اور تناؤ بڑھ رہا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں، جیسا کہ جیو نیوز اور 24 نیوز نے رپورٹ کیا، گوہر نے نورین بی بی کی بگڑتی صحت پر تشویش ظاہر کی اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ 24 نیوز کے مطابق نورین بی بی کو سینے میں درد کے بعد پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں داخل کیا گیا۔
گوہر نے کہا کہ عمران خان کی دو دیگر بہنوں کو بھی رہا کیا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ غیر سیاسی خواتین کو قید کرنا ہماری روایات نہیں۔ 24 نیوز کے مطابق انہوں نے خواتین کو ہراساں کرنے کو پاکستانی روایات کے خلاف قرار دیا۔
ڈیلی جنگ اور ڈیلی پاکستان کے مطابق گوہر نے یہ بھی کہا کہ لانگ مارچ جرم نہیں اور پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی میں سنجیدہ مشاورت کی ضرورت ہے۔
24 نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ پارٹی اس وقت مشکل حالات سے گزر رہی ہے۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کر کے صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت ختم کر دی گئی ہے۔
اس اقدام کا ذکر کرتے ہوئے 24 نیوز کے مطابق گوہر نے کہا کہ اب جب آپ نے کے پی میں گورنر راج لگا کر اور پی ٹی آئی حکومت ختم کر کے اپنی پوزیشن مزید مضبوط کر لی ہے تو اور کیا چاہتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے وہ ارکان صوبائی اسمبلی جنہوں نے حکومت کے خلاف جدوجہد کی، انہیں ہیرو سمجھا جانا چاہیے۔
یہ کیوں اہم ہے
سیاسی شخصیات کی گرفتاریاں اور پی ٹی آئی کی صورتحال ملک کی سیاسی فضا پر اثر انداز ہوتی ہیں، جس پر قارئین گہری نظر رکھتے ہیں۔



