سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ پیر کو راولپنڈی میں 89 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی نماز جنازہ آرمی ریس کورس گراؤنڈ راولپنڈی میں ادا کی گئی۔

- جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ راولپنڈی میں 89 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔
- وہ 12 جنوری 1993 سے 11 جنوری 1996 تک آرمی چیف رہے۔
- نماز جنازہ میں وزیر اعظم اور دیگر اعلیٰ شخصیات نے شرکت کی۔
سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ پیر کے روز راولپنڈی میں 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کا اعلان آئی ایس پی آر نے کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاک فوج کے تمام رینکس نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے مرحوم کی نمایاں عسکری خدمات، قیادت اور فوج کے لیے گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ پاک فوج غمزدہ خاندان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے اور دلی تعزیت کرتی ہے۔
جنرل وحید کاکڑ پاکستان کے گیارہویں آرمی چیف تھے اور 12 جنوری 1993 سے 11 جنوری 1996 تک اس عہدے پر رہے۔ انہوں نے 1959 میں کمیشن حاصل کیا تھا۔ وہ نشانِ امتیاز (ملٹری) اور ہلالِ جرات کے حامل تھے۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق انہوں نے 1993 کے سیاسی بحران کے حل میں فیصلہ کن کردار ادا کیا، اور ان کا نام ملک کے سول ملٹری تعلقات پر ہونے والی بحث میں آتا رہے گا۔
ان کی نماز جنازہ آرمی ریس کورس گراؤنڈ، راولپنڈی میں ادا کی گئی۔ اس میں وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا نے شرکت کی۔ سابق آرمی چیفس، سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور حاضر سروس و ریٹائرڈ سول اور عسکری حکام بھی شریک ہوئے۔
ایوانِ صدر کے میڈیا ونگ کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے گہرے دکھ کا اظہار کیا، اہلِ خانہ سے تعزیت کی اور مرحوم کے لیے مغفرت اور سوگوار خاندان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی الگ بیان میں اہل خانہ سے تعزیت کی۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ دے۔
یہ کیوں اہم ہے
رپورٹس کے مطابق جنرل کاکڑ نے 1990 کی دہائی کے وسط میں فوج کی قیادت کی اور 1993 کے سیاسی بحران کے حل میں فیصلہ کن کردار ادا کیا، جو پاکستان کی سول ملٹری تاریخ کا حصہ ہے۔ ان کے انتقال پر ملک کی سول اور عسکری قیادت نے تعزیت کا اظہار کیا۔



