آئینی عدالت: ٹیسٹ نہ لینا محکموں کی غفلت، ملازمین کی مستقل بحالی کا حکم
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ بحال شدہ ملازمین کے لازمی اہلیت ٹیسٹ نہ لینا محکموں کی ذمہ داری تھی۔ عدالت نے درخواست گزاروں کو غیر مشروط اور مستقل ملازم تصور کرنے کی ہدایت کی۔

- عدالت کے مطابق ملازمین کو محکموں کی غفلت کی سزا نہیں دی جا سکتی۔
- درخواست گزار غیر مشروط اور باقاعدہ تقرر شدہ ملازم تصور ہوں گے۔
- فیصلہ سپریم کورٹ کے 17 دسمبر 2021 کے حکم پر عمل سے متعلق ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ بحال شدہ سرکاری ملازمین کے لازمی اہلیت ٹیسٹ منعقد نہ کرانا متعلقہ محکموں کی ذمہ داری تھی اور ملازمین کو محکموں کی غفلت کی سزا نہیں دی جا سکتی۔
عدالت نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق توہین عدالت کی درخواستیں نمٹا دیں۔ اس نے حکام کو ہدایت کی کہ سپریم کورٹ کے 17 دسمبر 2021 کے تفصیلی فیصلے پر اس کی حقیقی روح کے مطابق عمل کریں اور درخواست گزاروں کو غیر مشروط اور مستقل ملازم تصور کریں۔
تین رکنی بینچ کی سربراہی چیف جسٹس امین الدین خان نے کی، جس میں جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ شامل تھے۔ فیصلہ جسٹس علی باقر نجفی نے تحریر کیا، جسے ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق 10 صفحات پر مشتمل بتایا گیا ہے۔
ڈیلی پاکستان کے مطابق سپریم کورٹ نے دسمبر 2021 میں بحال ملازمین کے لیے دو مختلف شرائط رکھی تھیں: کچھ کو سابقہ عہدوں پر بحال کیا گیا جبکہ کچھ کو متعلقہ امتحان پاس کرنے کی شرط پر۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق سپریم کورٹ نے ازخود اختیار کے تحت ہزاروں برطرف سرکاری ملازمین کو بحال کیا تھا، جنہیں اس کے 17 اگست کے فیصلے میں کالعدم قرار دیے گئے سیکڈ ایمپلائز (ری انسٹیٹمنٹ) آرڈیننس ایکٹ 2010 کے تحت برطرف کیا گیا تھا۔
مطلوبہ امتحانات منعقد نہیں ہوئے۔ محکموں کا مؤقف تھا کہ ملازمین نے ٹیسٹ کے لیے رابطہ نہیں کیا، جبکہ وفاقی پبلک سروس کمیشن نے کہا کہ متعلقہ محکموں کی درخواست کے بغیر وہ امتحان نہیں لے سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ محکموں نے ملازمین کو ٹیسٹ کے لیے نہیں بلایا اور کمیشن کو امتحان کی درخواست نہیں بھیجی۔ عدالت کے مطابق ملازمین خود پرچے تیار نہیں کر سکتے تھے اور نہ ہی کمیشن کے مرکز پر اپنے طور پر امتحان دے سکتے تھے۔
رپورٹس کے مطابق عدالت نے کہا کہ ٹیسٹ کی شرط محکموں کی عدم دلچسپی اور تاخیر کے باعث غیر مؤثر ہو گئی، اس میں درخواست گزاروں کا کوئی قصور نہیں۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق عدالتی حکم میں فیصلوں پر عمل کو آئینی تقاضا قرار دیا گیا۔ جسٹس علی باقر نجفی نے لکھا کہ عدالتی فیصلے کو نظرانداز کرنا یا اس پر عمل میں تاخیر کرنا "پورے قانونی نظام کے ڈھانچے کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے" (انگریزی سے ترجمہ)۔ حکم میں یہ بھی کہا گیا: "نتیجتاً عدالتی نظام پر اعتماد کا خاتمہ جمہوری نظام کو کمزور کر سکتا ہے" (انگریزی سے ترجمہ)۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق عدالت نے کہا کہ موجودہ مرحلے پر مجموعی حالات کے پیش نظر وہ پیش قدمی کے بجائے تحمل سے کام لے گی۔
یہ کیوں اہم ہے
یہ فیصلہ 2021 کے سپریم کورٹ حکم کے تحت بحال ہونے والے سرکاری ملازمین کو متاثر کرتا ہے، جن کی ملازمت محکموں کے ٹیسٹ نہ لینے کے باعث غیر یقینی تھی۔



