ایف بی آر کا پیشگی ادائیگیوں پر سیلز ٹیکس انوائس لازمی قرار
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کو مستقبل کی سپلائی کے بدلے وصول پیشگی رقوم پر سیلز ٹیکس انوائس جاری کرنے کا پابند کر دیا ہے۔ طریقہ کار ایس آر او 2063 آف 2026 کے ذریعے جاری کیا گیا۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان ہر پیشگی ادائیگی پر سیلز ٹیکس انوائس جاری کریں گے۔
- پیشگی رقم پر ٹیکس اسی مدت کے ریٹرن میں ظاہر کرنا ہوگا جس میں رقم ملے۔
- جس رقم پر ٹیکس ہو چکا ہو، اس پر حتمی سپلائی کے وقت دوبارہ ٹیکس نہیں لگے گا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کے لیے لازمی قرار دیا ہے کہ وہ مستقبل کی سپلائی کے بدلے وصول ہونے والی پیشگی رقوم پر سیلز ٹیکس انوائس جاری کریں۔ ٹیک جوس اور 24 نیوز بزنس کے مطابق یہ طریقہ کار ایس آر او 2063(I) آف 2026 کے ذریعے مطلع کیا گیا۔
اس ایس آر او کے تحت ایف بی آر نے سیلز ٹیکس رولز 2006 کے رول 160 کو تبدیل کر دیا ہے۔ ترمیم شدہ قواعد میں پیشگی ادائیگیوں کی انوائسنگ، ٹیکس کے اعلان اور الیکٹرانک ریکارڈ رکھنے کی شرائط شامل ہیں۔ 24 نیوز بزنس کے مطابق یہ ترمیم جمعہ کو 24 نیوز ایچ ڈی ٹی وی چینل نے رپورٹ کی۔
جو ٹیکس دہندگان مکمل یا جزوی پیشگی رقم، بشمول اقساط، وصول کریں گے، انہیں ہر ادائیگی ملنے پر پیشگی رسید انوائس جاری کرنا ہوگی۔ پیشگی رقم پر آؤٹ پٹ سیلز ٹیکس اسی ٹیکس مدت کے ریٹرن میں ظاہر کرنا ہوگا جس میں رقم وصول ہوئی، سپلائی مکمل ہونے تک مؤخر نہیں کیا جا سکے گا۔
ہر انوائس میں سیلز ٹیکس ایکٹ کی دفعہ 23 کے تحت مقررہ تفصیلات ہونا ضروری ہیں اور اسے دفعات 7 اور 8 کے لیے ٹیکس انوائس تصور کیا جائے گا۔ ایک ہی سپلائی کے بدلے متعدد پیشگی ادائیگیوں کی صورت میں ہر ادائیگی کی الگ انوائس جاری ہوگی اور یہ انوائسیں سراغ لگانے کے لیے الیکٹرانک طور پر آپس میں جوڑی جائیں گی۔
اصل سپلائی کے وقت حتمی سیلز ٹیکس انوائس جاری کرنا ہوگی جس میں متعلقہ پیشگی انوائسوں کا حوالہ ہوگا۔ پیشگی رقوم پر جو مالیت اور ٹیکس پہلے ہی شمار ہو چکا ہو وہ دوبارہ شمار نہیں ہوگا، اور بقایا رقم پر ٹیکس صرف سپلائی کی باقی ماندہ مالیت پر لگے گا۔
شرح کے بارے میں، پیشگی ادائیگی پر ٹیکس اس شرح سے لگے گا جو رقم ملنے کے وقت نافذ ہو۔ بقایا رقم پر اصل سپلائی کی تاریخ کو لاگو شرح کا اطلاق ہوگا۔
قواعد میں بعد کی تبدیلیوں کا بھی ذکر ہے۔ پیشگی رقوم یا سپلائی کی مالیت میں اضافہ، کمی یا واپسی، اور سپلائی کی مکمل یا جزوی منسوخی کی صورت میں ایڈجسٹمنٹ سیلز ٹیکس ایکٹ کی دفعہ 9 اور رولز 19 تا 22 کے تحت ہوگی۔ ٹیکس دہندگان کو پیشگی انوائسیں، ڈیبٹ اور کریڈٹ نوٹس اور حتمی انوائسیں مقررہ طریقے سے الیکٹرانک طور پر جوڑ کر محفوظ رکھنا ہوں گی۔
پس منظر
خبر ڈاٹ پی کے نے 6 نومبر کو رپورٹ کیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے مکمل ڈیجیٹل ادائیگی نظام کے لیے وقت اور اہداف کے ساتھ روڈ میپ تیار کرنے کی ہدایت کی۔ اسی دن ہم نے آئی ایم ایف کے پاکستان میں نمائندے کا یہ مطالبہ بھی رپورٹ کیا کہ ٹیکس نظام وسیع، آسان، منصفانہ اور قابل پیش گوئی ہونا چاہیے۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستان میں جو کاروبار گاہکوں سے ڈپازٹ، اقساط یا دیگر پیشگی رقوم لیتے ہیں، انہیں اب ہر ادائیگی کے وقت سیلز ٹیکس انوائس جاری کرنا ہوگی۔ انہیں ڈیلیوری کا انتظار کیے بغیر اسی مدت کے ریٹرن میں ٹیکس ظاہر کرنا ہوگا۔ کمپنیوں کو پیشگی، حتمی اور ایڈجسٹمنٹ دستاویزات الیکٹرانک طور پر جوڑ کر ریکارڈ میں رکھنی ہوں گی۔ قواعد کے مطابق پیشگی رقم پر ادا شدہ ٹیکس حتمی سپلائی پر دوبارہ نہیں لیا جائے گا۔



