ایف بی آر نے تاخیر سے ریٹرن جمع کرانے والوں کو ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ سے نکال دیا
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ اپ ڈیٹ کر دی ہے۔ 31 اکتوبر تک ریٹرن یا توسیع کی درخواست جمع نہ کرانے والے فہرست سے خارج ہو گئے ہیں۔

- 31 اکتوبر کی آخری تاریخ چھوڑنے والے ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ سے خارج ہیں۔
- دوبارہ شامل ہونے کے لیے سرچارج ادا کرنا ہو گا۔
- فہرست سے باہر افراد پر وِد ہولڈنگ ٹیکس زیادہ لگ سکتا ہے اور ریفنڈ نہیں ملے گا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ایکٹو ٹیکس پیئرز لسٹ اپ ڈیٹ کر دی ہے اور وہ ٹیکس دہندگان فہرست سے نکال دیے گئے ہیں جنہوں نے 31 اکتوبر کی آخری تاریخ تک انکم ٹیکس ریٹرن یا توسیع کی درخواست جمع نہیں کرائی۔ پرو پاکستانی کے مطابق فہرست یکم نومبر 2026 کو اپ ڈیٹ کی گئی۔
پرو پاکستانی کے مطابق ٹیکس سال 2026 کے ریٹرن کی تاریخ دو بار بڑھائی گئی، پہلے 30 ستمبر سے 15 اکتوبر اور پھر 31 اکتوبر تک۔ مزید توسیع کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق ایف بی آر حکام نے بھی کہا کہ تاریخ دو بار بڑھائی گئی۔
پرو پاکستانی کے مطابق جن لوگوں نے سیکشن 119(1) اور 114 کے تحت آخری رات دیر سے توسیع کی درخواست دی اور منظوری کے منتظر ہیں، وہ فی الحال غیر فعال دکھائے گئے ہیں۔ ان کی حیثیت کمشنر کی منظوری پر منحصر ہے۔
فہرست میں شامل نہ ہونے والوں کو نان فائلر تصور کیا جاتا ہے۔ پرو پاکستانی کے مطابق بینک، پراپرٹی رجسٹرار اور گاڑیوں کی رجسٹریشن کے ادارے ان سے نان فائلر کی بلند شرح پر وِد ہولڈنگ ٹیکس کاٹ سکتے ہیں۔
ٹیکس دہندگان اب بھی آئرس کے ذریعے ریٹرن جمع کرا سکتے ہیں، مگر اسے تاخیر سے جمع شدہ شمار کیا جائے گا۔ صرف ریٹرن جمع کرانے سے ایکٹو حیثیت بحال نہیں ہوتی، سیکشن 182A کے تحت دوبارہ شامل ہونے سے پہلے سرچارج ادا کرنا ہو گا۔
ڈیلی پاکستان کے مطابق سرچارج افراد کے لیے 25 ہزار روپے، ایسوسی ایشنز کے لیے 50 ہزار روپے اور کمپنیوں کے لیے ایک لاکھ روپے ہے۔ پرو پاکستانی نے بھی ایسوسی ایشنز آف پرسنز کے لیے 50 ہزار روپے بتائے ہیں۔
پرو پاکستانی کے مطابق فہرست سے باہر تاخیر سے ریٹرن جمع کرانے والوں کو ٹیکس ریفنڈ نہیں مل سکتا اور وہ اس سال کے کاروباری نقصانات آگے لے جانے کا حق کھو دیتے ہیں۔ سیکشن 182 کے تحت تاخیر سے فائلنگ پر جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
جو ٹیکس دہندگان آخری تاریخ تک ریٹرن نہ دے سکے انہیں نان فائلر سمجھا جاتا ہے، یعنی بینکنگ، جائیداد اور گاڑیوں کے لین دین پر زیادہ وِد ہولڈنگ ٹیکس اور سرچارج ادا کر کے دوبارہ شامل ہونے تک ریفنڈ نہیں۔



