ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
کاروبار3 ذرائع سے تصدیق شدہ

ایف بی آر: فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ برقرار، سی اے یو کی اسلام آباد منتقلی واپس نہیں ہوگی

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کہا ہے کہ سینٹرل اپریزنگ یونٹ کی اسلام آباد منتقلی واپس نہیں ہوگی۔ بورڈ کے مطابق کسٹمز کلیئرنس کا اوسط وقت 40.2 گھنٹے سے کم ہو کر 20.57 گھنٹے رہ گیا ہے۔

2019 vehicle livery of SBA Customs & Immigration
2019 vehicle livery of SBA Customs & Immigration تصویر: Arneb57 / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔

اہم نکات
  • ایف بی آر کے مطابق سینٹرل اپریزنگ یونٹ کی اسلام آباد منتقلی کسٹمز جدت کا اگلا مرحلہ ہے اور واپس نہیں ہوگی
  • صرف اسسمنٹ اسلام آباد جائے گی، معائنہ اور بندرگاہی امور کراچی میں رہیں گے
  • کلیئرنس کا اوسط وقت 40.2 سے 20.57 گھنٹے ہوگیا اور 83 فیصد کنسائنمنٹس 48 گھنٹے میں کلیئر ہوتی ہیں
40.2 گھنٹےپہلے کلیئرنس کا اوسط وقت
20.57 گھنٹےاب کلیئرنس کا اوسط وقت
83 فیصد48 گھنٹے میں کلیئر کنسائنمنٹس

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ سینٹرل اپریزنگ یونٹ (سی اے یو) کو اسلام آباد منتقل کرنا کسٹمز جدت کا اگلا مرحلہ ہے اور اسے واپس نہیں لیا جائے گا۔

ایف بی آر کے مطابق صرف اسسمنٹ کا کام اسلام آباد منتقل ہوگا۔ دیگر امور متعلقہ کلکٹریٹ کے پاس رہیں گے، جبکہ جسمانی معائنہ اور بندرگاہی کارروائیاں کراچی میں جاری رہیں گی۔ تاجر مسائل کے حل کے لیے کراچی میں اپنے متعلقہ کلکٹریٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔

یہ وضاحت آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے تحفظات کے جواب میں جاری کی گئی، جن میں کلیئرنس میں تاخیر، ویلیوایشن تنازعات اور لیبارٹری ریفرل شامل تھے۔ ایف بی آر نے کہا کہ اپٹما کے پیش کردہ اعداد و شمار زیادہ تر عمل درآمد کے ابتدائی مہینوں سے متعلق ہیں۔

بورڈ کے مطابق کسٹمز کلیئرنس کا اوسط وقت 40.2 گھنٹے سے کم ہو کر 20.57 گھنٹے ہو گیا ہے اور 83 فیصد کنسائنمنٹس اب 48 گھنٹوں میں کلیئر ہو جاتی ہیں۔ اس نے کہا کہ کسٹمز ویلیوایشن بدستور کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 25 کے تحت ہوتی ہے اور ڈیجیٹل اسسمنٹ میں ظاہر کردہ قدر کو من مانے طور پر بڑھانے کی اجازت نہیں۔

ایف بی آر نے اس اصلاح کو اپنی ڈیجیٹل تبدیلی کا حصہ قرار دیا، جس میں ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیجیٹل پروڈکشن مانیٹرنگ شامل ہیں۔

بورڈ نے کہا کہ ای ایف ایس اور برآمدی کنسائنمنٹس کے بیک لاگ کے خاتمے کے انتظامات کیے جائیں گے، جبکہ مجاز اقتصادی آپریٹرز اور قانون کی پابندی کرنے والے درآمد کنندگان کو گرین چینل سہولت دی جائے گی۔ جہاں قانوناً ممکن ہو، کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 81 کے تحت عارضی ریلیز میں سہولت دی جائے گی۔

مجوزہ سروس ٹائم لائنز یہ ہیں: اسسمنٹ اور پہلے ریویو کے لیے 24 گھنٹے، دوسرے ریویو کے لیے 48 گھنٹے، گراؤنڈنگ کے بعد معائنے کے لیے 24 گھنٹے اور لیبارٹری نتائج کے لیے 72 گھنٹے۔

ایف بی آر نے تجارتی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ ارکان کو جہاز کی آمد سے پہلے گڈز ڈیکلریشن جمع کرانے کی آگاہی دیں۔ اس نے اپٹما اور دیگر تنظیموں کو گڈز ڈیکلریشن نمبروں سمیت مخصوص کیسز بھیجنے کی دعوت دی۔

یہ کیوں اہم ہے

ٹیکسٹائل ملز سمیت درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کا واسطہ کسٹمز اسسمنٹ سے پڑتا ہے، جو کلیئرنس کے وقت اور پاکستان میں فروخت ہونے والی درآمدی اشیا کی لاگت پر اثر ڈالتی ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

ایف بی آرکسٹمزاپٹما

اس خبر پر مزید