ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
کاروبار2 ذرائع سے تصدیق شدہ

ایف بی آر کا ٹائروں اور ربڑ کی برآمدات پر ڈیوٹی ڈرا بیک کی نئی شرح کا اعلان

ایف بی آر نے درآمدی خام مال سے بننے والے ٹائروں اور ربڑ کی مصنوعات پر ڈیوٹی ڈرا بیک کی نئی شرحیں مقرر کی ہیں۔ ان کا اطلاق 27 اکتوبر 2026 سے برآمد ہونے والے مال پر ہوگا۔

Boys weave in and out of scores of giant cones as they roll bike tyres around a rice processing plant. The playful youngsters dart between the large 'topas' wh…
Boys weave in and out of scores of giant cones as they roll bike tyres around a rice processing plant. The playful youngsters dart between the large 'topas' wh… تصویر: Original: Azimronnie Derivative work: Radomianin / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔

اہم نکات
  • نئی شرحوں کا اطلاق 27 اکتوبر 2026 سے برآمد ہونے والے مال پر ہوگا
  • شرحیں ٹھوس ٹائروں کے لیے 0.07 روپے فی کلو سے لے کر ایف او بی ویلیو کے 1.45 فیصد تک ہیں
  • کلیم برآمد کے 210 دن یا زرمبادلہ وصولی کے 180 دن کے اندر دائر کرنا ہوگا
27 اکتوبر 2026 سےاطلاق برآمدات پر
ایف او بی کا 1.45 فیصدموٹر سائیکل، رکشہ ٹائر
ایف او بی کا 0.38 فیصدٹرک، بس، کار ٹائر
0.07 روپے فی کلوٹھوس ربڑ ٹائر

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے درآمدی خام مال سے تیار کیے جانے والے برآمدی ٹائروں اور ربڑ کی مصنوعات پر ڈیوٹی ڈرا بیک کی نئی شرح کا اعلان کر دیا ہے۔ نئی شرحوں کا اطلاق 27 اکتوبر 2026 سے برآمد ہونے والے مال پر ہوگا۔

ڈیوٹی ڈرا بیک درآمدی خام مال پر پہلے ادا کی گئی کسٹم ڈیوٹی کی مقررہ شرح کے مطابق دیا جاتا ہے۔ اس میں ٹرک، بس، کار اور جیپ، زرعی ٹریکٹر، موٹر سائیکل، اسکوٹر، رکشہ اور ٹرالی، سائیکل کے ٹائر اور ٹیوبیں اور ٹھوس ربڑ کے ٹائر شامل ہیں۔

جن خام مال پر یہ سہولت ملے گی ان میں قدرتی اور مصنوعی ربڑ، کاربن بلیک، نائلون ٹائر کارڈ، بیڈ وائر، زنک آکسائیڈ، اینٹی آکسیڈنٹس اور ربڑ سازی کے دیگر اجزا شامل ہیں۔

ٹائروں میں ٹرک، بس، کار اور جیپ کے لیے شرح ایف او بی ویلیو کا 0.38 فیصد اور زرعی ٹریکٹر و الٹرا لائٹ ٹرک کے لیے 0.32 فیصد ہے۔ موٹر سائیکل، اسکوٹر، رکشہ، ٹرالی اور الٹرا لائٹ گاڑیوں کے ٹائروں پر 1.45 فیصد اور سائیکل ٹائروں پر 1.13 فیصد مقرر ہے۔

ٹیوبوں میں ٹرک، بس، کار اور جیپ کی ٹیوبوں پر 0.97 فیصد، زرعی ٹریکٹر ٹیوبوں پر 0.13 فیصد اور موٹر سائیکل، اسکوٹر، رکشہ، ٹرالی و الٹرا لائٹ گاڑیوں کی ٹیوبوں پر 0.87 فیصد شرح ہے۔ ہر سائز کے فلیپس پر 0.17 فیصد ہے، جبکہ ٹھوس ربڑ ٹائروں پر 0.07 روپے فی کلوگرام مقرر ہے۔

سہولت کے لیے مال کا پاکستان سے برآمد ہونا ضروری ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق کلیم متعلقہ کسٹم افسر کے پاس برآمد کے 210 دن کے اندر، یا اسٹیٹ بینک کی ہدایات کے تحت جاری بینک کریڈٹ ایڈوائس میں درج زرمبادلہ وصولی کی تاریخ سے 180 دن کے اندر دائر کرنا ہوگا۔

برآمد کنندگان کو درآمدی خام مال پر ڈیوٹی ڈرا بیک کا دعویٰ کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 131 کے تحت گڈز ڈیکلریشن اور دیگر برآمدی دستاویزات میں کرنا ہوگا۔

یہ کیوں اہم ہے

ان شرحوں کا اثر پاکستانی ٹائر اور ربڑ برآمد کنندگان کی لاگت اور برآمدی منڈیوں میں ان کی مسابقت پر پڑتا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

ڈیوٹی ڈرا بیکایف بی آرٹائر برآمدات

اس خبر پر مزید