ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان4 ذرائع سے تصدیق شدہ

فضل الرحمان کی پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات، نئے میثاقِ جمہوریت کی تجویز

جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات میں چارٹر آف ڈیموکریسی کی تجویز دی، جس پر پی ٹی آئی نے اتفاق کیا۔ آل پارٹیز کانفرنس کے لیے 9 اور 10 نومبر پر غور ہو رہا ہے۔

A blue-colored bus arriving at the PIMS station in Islamabad, along the "Blue Line" route of Rawalpindi-Islamabad Metrobus
A blue-colored bus arriving at the PIMS station in Islamabad, along the "Blue Line" route of Rawalpindi-Islamabad Metrobus تصویر: Toofllab / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0
اہم نکات
  • فضل الرحمان نے اسلام آباد میں پی ٹی آئی قیادت کو چارٹر آف ڈیموکریسی کی تجویز دی۔
  • ایکسپریس نیوز کے مطابق پی ٹی آئی نے اندرونی مشاورت کے بعد تجویز سے اتفاق کیا۔
  • آل پارٹیز کانفرنس 9 یا 10 نومبر کو بلانے پر غور ہے، تاریخ کی تصدیق نہیں ہوئی۔
9 اور 10 نومبراے پی سی کے لیے زیر غور تاریخیں

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سے ملاقات کی اور چارٹر آف ڈیموکریسی کی تجویز پیش کی۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق پی ٹی آئی نے اس تجویز سے اتفاق کیا اور جلد آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلائی جائے گی۔

مولانا فضل الرحمان نے وفد کے ہمراہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس سے بھی ملاقات کی۔ رپورٹ کے مطابق ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال، آئینی و جمہوری امور اور اپوزیشن جماعتوں کے باہمی تعاون پر بات ہوئی۔

شرکاء نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی شدید مذمت کی اور اسے عوام کی حاکمیت اور جمہوری اصولوں کے منافی قرار دیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے گرفتار وزیراعلیٰ، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر اور قومی اسمبلی کے اراکین کی گرفتاریوں پر تشویش ظاہر کی اور سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی اور سیاسی آزادیوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔

شرکاء نے مولانا فضل الرحمان کے نئے میثاقِ جمہوریت کے مؤقف کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ قومی بحرانوں سے نکلنے کے لیے تمام سیاسی جماعتیں نئے میثاقِ جمہوریت کی جانب بڑھیں، اور مجوزہ اے پی سی اس سمت میں اہم ابتدائی قدم ہے۔

پی ٹی آئی کے وفد میں بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، بیرسٹر علی ظفر، عامر محمود ڈوگر، زین قریشی اور آخوندزادہ حسین احمد یوسفزئی شامل تھے۔ جے یو آئی (ف) کے وفد میں سینیٹر کامران مرتضیٰ، میر یونس ظہری اور عثمان بادینی شامل تھے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ملاقات کے بعد پی ٹی آئی قیادت کی بیٹھک ہوئی جس میں تجویز پر تفصیلی غور کے بعد اس سے اتفاق کیا گیا۔ میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ چارٹر کی شرائط مشاورت سے تیار کی جائیں گی، ابھی مولانا صاحب نے صرف تجویز دی ہے جس پر مشاورت ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق ملک میں امن ہونا چاہیے اور ہر اسٹیک ہولڈر کو ساتھ لے کر چلا جائے گا۔

اسد قیصر نے کہا کہ حکومت معاشی، انتظامی اور گورننس کے محاذ پر مکمل ناکام ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق چارٹر آف ڈیموکریسی کی تجویز پر آل پارٹیز کانفرنس بلائی جا رہی ہے، تاریخ ابھی کنفرم نہیں اور 9 اور 10 نومبر کو انعقاد پر غور جاری ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

مجوزہ چارٹر اور آل پارٹیز کانفرنس میں بڑی اپوزیشن جماعتیں شامل ہیں اور یہ اس سیاسی ماحول پر اثر ڈال سکتی ہیں جو پاکستان میں روزمرہ حکمرانی سے جڑا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

فضل الرحمانپی ٹی آئیمیثاقِ جمہوریت

اس خبر پر مزید