الیکشن کمیشن کی انتخابی ضابطہ اخلاق میں اے آئی سے متعلق ترامیم کی تجویز
الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے باقاعدہ استعمال کا فیصلہ کیا ہے اور ضابطہ اخلاق میں ترامیم تجویز کی ہیں۔ مجوزہ ترامیم پر 20 نومبر تک تجاویز مانگی گئی ہیں۔

- اے آئی سے بنے یا تبدیل شدہ انتخابی مواد پر واضح لیبل لازم ہوگا
- ووٹرز کو دھوکا دینے والی ڈیپ فیک پر پابندی تجویز
- میڈیا اور مبصرین کے لیے بھی اے آئی ضابطے تجویز
- عوام کی تجاویز 20 نومبر تک طلب
الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا باقاعدہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دنیا نیوز کے مطابق کمیشن نے سیاسی جماعتوں، میڈیا اور مبصرین کے ضابطہ اخلاق میں اے آئی سے متعلق ترامیم تجویز کی ہیں۔
کمیشن نے انتخابی عمل میں اے آئی کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے عوام اور سیاسی جماعتوں سے تجاویز طلب کی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو مجوزہ ضابطہ اخلاق جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ ترامیم 2023 میں تیار کیے گئے ضابطہ اخلاق میں تجویز کی گئی ہیں اور تجاویز 20 نومبر تک دی جا سکتی ہیں۔
سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور حامیوں کے لیے مجوزہ ترمیم کے مطابق اے آئی سے بنا یا تبدیل کیا گیا انتخابی مواد واضح لیبل کے بغیر شائع نہیں کیا جا سکے گا۔ ڈیپ فیک، مصنوعی آواز اور ویڈیو پر اے آئی جنریٹڈ ہونے کا واضح ذکر لازم ہوگا۔ ووٹرز کو دھوکا دینے والا اے آئی مواد بنانا اور شائع کرنا ممنوع ہوگا۔
مجوزہ ترمیم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی شخص کی شکل، آواز یا بیان کو جعلی انداز میں بنانا سختی سے ممنوع ہوگا۔ ججوں، الیکشن اہلکاروں اور افواج کے خلاف جعلی ڈیپ فیک مواد پر پابندی ہوگی۔ اے آئی بوٹس اور آٹومیٹڈ اکاؤنٹس کے ذریعے جعلی ٹرینڈز اور لائکس بنانا بھی ممنوع ہوگا۔
روبو کالز اور وائس کلون پیغامات کے آغاز میں بتانا لازم ہوگا کہ وہ اے آئی سے بنے ہیں۔ تمام اے آئی مواد کا ریکارڈ رکھنا اور الیکشن کمیشن کو فراہم کرنا بھی لازم ہوگا۔
میڈیا کے لیے تجویز ہے کہ پرنٹ، الیکٹرانک، ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز اے آئی مواد پر واضح لیبل لگائیں۔ امیدوار یا انتخابی معاملے پر اے آئی تصویر، ویڈیو یا آڈیو نشر کرتے وقت اس کا بتانا ہوگا۔ جعلی، توہین آمیز اور ہتک آمیز ڈیپ فیک مواد سختی سے ممنوع ہوگا۔
میڈیا ہاؤسز اے آئی کو صرف کنٹینٹ جنریشن، ترجمہ اور تجزیے کے لیے استعمال کر سکیں گے۔ پیمرا، ایس ایم پی آر اے اور این سی سی آئی اے اس مواد کی نگرانی کریں گے اور بغیر لیبل مواد پر کارروائی کی رپورٹ الیکشن کمیشن کو بھجوائی جائے گی۔ کمیشن کی ہدایت پر میڈیا گمراہ کن اے آئی مواد فوری ہٹانے یا درست لیبل لگانے کا پابند ہوگا۔
انتخابی مبصرین کے لیے بھی ضابطہ اخلاق تجویز کیا گیا ہے۔ وہ اے آئی سے بنے ڈیپ فیک اور مصنوعی مواد پر نظر رکھیں گے، مشکوک مواد ملنے پر فوری کمیشن کو اطلاع دیں گے اور اسے آگے شیئر نہیں کریں گے۔ مبصرین اپنی آبزرویشن، تصاویر اور ویڈیوز میں اے آئی ٹولز سے رد و بدل نہیں کریں گے۔
یہ کیوں اہم ہے
مجوزہ ضابطے پاکستان میں سیاسی جماعتوں، امیدواروں، میڈیا اداروں اور مبصرین کے لیے انتخابات سے متعلق اے آئی مواد کے استعمال کے اصول بدلیں گے۔ عوام 20 نومبر تک اپنی تجاویز دے سکتے ہیں۔



