خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات پر الیکشن کمیشن کا فیصلہ محفوظ
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے سماعت کی اور تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری ہوگا۔

- سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا
- کمیشن حکام کے مطابق 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل ہیں
- صوبائی مشیرِ قانون نے امن و امان اور ایمرجنسی کا حوالہ دیا
- تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے سماعت کی اور بتایا کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
اسپیشل سیکریٹری الیکشن کمیشن ظفر اقبال نے بینچ کو بتایا کہ صوبے کے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل ہو چکی ہیں، جہاں کمیشن اپنے حکم کے ذریعے بلدیاتی انتخابات کروا سکتا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ باقی 16 اضلاع میں حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کیا جائے اور جہاں حلقہ بندیاں مکمل ہیں وہاں انتخابات کا فیصلہ کیا جائے۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق 19 ستمبر کو صوبائی حکومت کو قانون سازی کی ہدایت کی گئی تھی، مگر یہ عمل تاحال مکمل نہیں ہوا۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی نے قانون میں ترمیم کر کے انتخابی حلقوں میں آبادی کی حد بڑھا دی، جس سے حلقہ بندیوں میں پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آبادی کی حد کم کی جائے یا یونین کونسلوں کی حدود تبدیل کی جائیں۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ ایمرجنسی کے باوجود انتخابات میں رکاوٹ کیوں ہو، کیونکہ دنیا میں جنگوں اور ایمرجنسی کے دوران بھی انتخابات ہوتے رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے مشیرِ قانون عامر جاوید نے مؤقف اختیار کیا کہ امن و امان کی صورتِحال انتخابات کے انعقاد میں بڑی رکاوٹ ہے اور پورے صوبے میں ایمرجنسی نافذ ہے۔ ان کے مطابق صوبے کے 36 اضلاع میں سے 12 میں آئین کے آرٹیکل 140 اے کا اطلاق نہیں ہو سکتا اور وہاں بلدیاتی نظام قابلِ اطلاق نہیں۔ ان 12 میں سے 6 میں حلقہ بندیاں نہیں ہوئیں، جبکہ باقی 24 میں سے 16 میں مکمل ہو چکی ہیں۔
عامر جاوید نے کہا کہ صوبائی اسمبلی نے نجی بل کے ذریعے قانون میں ترمیم کی، جس سے موجودہ قانون میں ابہام پیدا ہوا۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت اب مزید ترمیم نہیں کر سکتی اور ہر ترمیم قومی اسمبلی کو بھیجنا ہوگی۔
اسپیشل سیکریٹری ارشد خان نے کہا کہ جہاں ایمرجنسی نافذ ہے وہاں امن و امان کا مسئلہ ہے، ایسے اضلاع میں لوگ ووٹ ڈالنے کیسے آئیں گے اور پولنگ عملے کی سیکیورٹی کیسے یقینی بنائی جائے گی۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اگر یونین کونسلوں کی تعداد اور آبادی کی حد دونوں تقاضوں پر عمل ممکن نہیں تو کمیشن کیا کر سکتا ہے۔ اسپیشل سیکریٹری نے کہا کہ کمیشن کے پاس مسئلہ حل کرنے کا اختیار ہے، جس سے چیف الیکشن کمشنر نے اتفاق کیا۔
سکندر سلطان راجہ نے کہا کہ صوبائی حکومت اور موجودہ سیاسی نظام انتخابات میں دلچسپی نہیں رکھتے، اور عوام سمجھتے ہیں کہ کمیشن انتخابات نہیں چاہتا حالانکہ سیاسی جماعتیں نہیں چاہتیں۔ ان کے مطابق اسلام آباد میں بھی وفاقی حکومت انتخابات نہیں چاہتی تھی مگر کمیشن نے اعلان کر دیا۔ اگر قومی اسمبلی قانون میں دوبارہ ترمیم کرے تو کمیشن اسے بھی دیکھے گا۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حمید نے کہا کہ کمیشن کو اپنا کام کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔
یہ کیوں اہم ہے
اس فیصلے سے طے ہوگا کہ خیبر پختونخوا کے ووٹر مقامی نمائندے کب اور کن اضلاع میں منتخب کریں گے۔



