الیکشن کمیشن کی انتخابات میں اے آئی کے غلط استعمال پر 12 ترامیم تجویز
الیکشن کمیشن نے 2023 کے ضابطہ اخلاق میں انتخابات کے دوران مصنوعی ذہانت کے استعمال کو منظم کرنے کے لیے 12 ترامیم تجویز کی ہیں۔ مسودے پر 20 نومبر 2026 تک رائے مانگی گئی ہے۔

- 2023 کے ضابطہ اخلاق میں اے آئی کے استعمال سے متعلق 12 ترامیم تجویز
- میڈیا کے لیے 5، سیاسی جماعتوں و امیدواروں کے لیے 5 اور مبصرین کے لیے 3 ترامیم
- اے آئی سے تیار انتخابی مواد پر واضح لیبل لازم، دھوکہ دہی پر مبنی ڈیپ فیک ممنوع
- رائے دینے کی آخری تاریخ 20 نومبر 2026
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سیاسی جماعتوں، میڈیا اداروں اور انتخابی مبصرین کے لیے 2023 میں جاری ضابطہ اخلاق میں 12 ترامیم تجویز کی ہیں۔ مقصد انتخابات کے دوران مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔ کمیشن کے ذرائع کے مطابق میڈیا کے لیے پانچ، سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے لیے پانچ جبکہ مبصرین کے لیے تین ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔
مسودہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر شائع کر کے متعلقہ فریقوں کو بھیج دیا گیا ہے۔ ان سے کہا گیا ہے کہ وہ اسلام آباد میں کمیشن کے سیکریٹریٹ کو 20 نومبر 2026 تک اپنی رائے اور تجاویز بھیجیں۔ کمیشن نے کہا کہ اے آئی نئی ٹیکنالوجی ہے جس کے انتخابی فریقوں پر اثرات ہیں، اور اس نے آئینی ذمہ داری کا حوالہ دیا کہ انتخابات دیانت داری، انصاف اور شفافیت سے ہوں اور گمراہ کن اے آئی مواد کے ذریعے بدعنوانی سے بچاؤ ہو۔
سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے لیے مسودے میں کہا گیا ہے کہ اے آئی سے تیار یا تبدیل شدہ مواد، بشمول ڈیپ فیک تصاویر، ویڈیوز اور آڈیو کلپس، واضح اے آئی لیبل کے بغیر تیار، شائع، نشر یا تقسیم نہیں کیے جا سکیں گے۔ ووٹروں کو دھوکہ دینے کے لیے کسی کی شبیہ، الفاظ یا اعمال کو غلط انداز میں پیش کرنے والا مواد ممنوع ہوگا۔ سیاسی رہنماؤں، امیدواروں، الیکشن عملے، عدلیہ، مسلح افواج کے ارکان اور دیگر ریاستی عہدیداروں کی جھوٹی، تضحیک آمیز یا ہتک آمیز مصنوعی شبیہ، آواز یا بیان بنانے پر سخت پابندی ہوگی۔
جماعتوں اور امیدواروں کو انتخابی عمل کے دوران تیار کردہ تمام اے آئی مواد کا ریکارڈ محفوظ رکھنا ہوگا اور طلب کرنے پر کمیشن کو تفصیلات دینا ہوں گی۔ جعلی ٹرینڈز یا لائکس، کمنٹس، شیئرز اور فالوورز جیسی مصنوعی مقبولیت بنانے کے لیے اے آئی بوٹس اور خودکار اکاؤنٹس کا استعمال ممنوع ہوگا۔ روبو کالز یا وائس کلون پیغامات میں آغاز ہی میں بتانا ہوگا کہ مواد اے آئی سے تیار کیا گیا ہے۔
میڈیا کے لیے اے آئی سے تیار یا ترمیم شدہ مواد نشر، شائع یا جاری کرتے وقت اس کا اعلان لازم ہوگا۔ میڈیا ہاؤسز انتخابی مواد کی تیاری، ترجمے، اینکرنگ یا تجزیے میں اے آئی استعمال کر سکیں گے، بشرطیکہ سامعین کو آگاہ کریں اور مواد کی صداقت اور درستگی کے ذمہ دار رہیں۔ جیو نیوز کے مطابق ان قواعد کا اطلاق پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا، صحافیوں اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز پر ہوگا۔
پیمرا، سوشل میڈیا پروٹیکشن ریگولیٹری اتھارٹی اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی غیر ظاہر شدہ یا بغیر لیبل اے آئی مواد کی نگرانی کریں گی، عدم تعمیل پر مناسب کارروائی کریں گی اور الیکشن کمیشن کو رپورٹ دیں گی۔ ریگولیٹر یا کمیشن کی ہدایت پر میڈیا ہاؤسز کو گمراہ کن یا غیر ظاہر شدہ مواد فوری ہٹانا یا درست لیبل لگانا ہوگا۔
مبصرین کے لیے تین ترامیم میں کہا گیا ہے کہ وہ اے آئی سے تیار یا تبدیل شدہ مواد پر چوکس رہیں اور فوری طور پر کمیشن کو اطلاع دیں۔ جیو نیوز کے مطابق وہ ایسے مواد کو آگے نہیں پھیلائیں گے۔ مبصرین کمیشن کو دی جانے والی اپنی رپورٹس، مشاہدات، تصاویر یا ویڈیوز بنانے، بدلنے یا مزین کرنے کے لیے اے آئی استعمال نہیں کر سکیں گے۔
یہ کیوں اہم ہے
مسودہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں، امیدواروں، میڈیا اداروں اور انتخابی مبصرین کے لیے انتخابی مہم میں اے آئی مواد بنانے اور پھیلانے کے قواعد طے کرے گا۔



