کراچی میں 10 پاکستانی ماحول دوست کاروباروں کی سرمایہ کاروں کو پیشکش
کراچی میں 27 اور 28 اکتوبر کو دو روزہ روڈ شو میں 10 پاکستانی کاروباری اداروں نے ماحول دوست منصوبے پیش کیے۔ برطانوی حکومت کی معاونت سے ان کے آئندہ تین سال کے منصوبوں کی مالیت 12 کروڑ ڈالر ہے۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- 10 کاروباری اداروں نے کراچی میں سرمایہ کاروں، بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کو منصوبے پیش کیے۔
- ان کے آئندہ تین سال کے منصوبوں کی مالیت 12 کروڑ ڈالر ہے۔
- کلائمیٹ فنانس ایکسیلریٹر پاکستان پروگرام کو برطانوی حکومت کی معاونت حاصل ہے اور اسے ڈی اے آئی نافذ کر رہی ہے۔
کراچی میں ہونے والے اجلاس میں 10 پاکستانی کاروباری اداروں نے سرمایہ کاروں، بینکوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کے سامنے اپنے ماحول دوست منصوبے پیش کیے۔ سی ایف اے پاکستان کا دو روزہ انویسٹر روڈ شو 27 اور 28 اکتوبر کو ہوا، جس میں کاروباری اداروں کو ممکنہ سرمایہ کاروں سے براہ راست ملاقات کا موقع ملا۔
ان اداروں کے آئندہ تین سال کے سرمایہ کاری منصوبوں کی مجموعی مالیت 12 کروڑ ڈالر ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق یہ ادارے اگلے 12 ماہ میں مجموعی طور پر 5 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق ماحول دوست منصوبے تین سال میں 12 کروڑ ڈالر تک سرمایہ کاری حاصل کر سکتے ہیں۔
منصوبوں کا تعلق صاف توانائی، ٹرانسپورٹ، تعمیرات، زراعت اور کچرے کو کارآمد وسائل میں تبدیل کرنے سے ہے۔ برطانوی حکومت کی مالی معاونت سے ان اداروں کو منصوبے سرمایہ کاروں کے لیے تیار کرنے کے سلسلے میں تکنیکی اور مالیاتی مشاورت دی گئی۔
کلائمیٹ فنانس ایکسیلریٹر پاکستان پروگرام کو برطانوی حکومت کی معاونت حاصل ہے اور اسے ڈی اے آئی نافذ کر رہی ہے۔ اس نے تکنیکی، مالیاتی، صنفی مساوات اور سماجی شمولیت کے امور پر رہنمائی دی۔ 2022 سے 2024 کے درمیان پروگرام نے پاکستان میں 22 منصوبوں کی معاونت کی اور موسمیاتی منصوبوں کے لیے 4 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری جمع کرانے میں مدد دی۔
شریک اداروں میں اے ایس انٹرپرائزز فصلوں کے فضلے سے بائیو کول بناتی ہے، جبکہ ٹریش اٹ نامیاتی کچرے اور فصلوں کے فضلے کو جراثیم سے بھرپور کھاد میں بدلتی ہے۔ سہارا ری سائیکلنگ میونسپل کچرے کی ری سائیکلنگ کے مربوط مراکز قائم کرنا چاہتی ہے۔ ویسٹ بسٹرز جے وی انٹرٹیک بلیک سولجر فلائی ٹیکنالوجی کیڑوں پر مبنی ٹیکنالوجی سے نامیاتی کچرے کو قابل استعمال بناتی ہے۔ بائیووسٹ انرجی وینچرز لمیٹڈ بائیو میتھین اور کچرے سے توانائی کے نظام پر کام کرتی ہے، اور بائیو انرجی سلوشن پرائیویٹ لمیٹڈ زرعی اور نامیاتی کچرے سے بایوماس ایندھن کی گولیاں بناتی ہے۔
گوسڈ اٹ محدود رسائی رکھنے والے متوسط آمدنی کے صارفین کو اقساط پر شمسی توانائی فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ایکو ایج اے آئی عمارتوں میں توانائی کے استعمال کو بہتر بنانے کے لیے سینسر اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام بنا رہی ہے۔ بس کرو شہری مسافروں اور ٹرانسپورٹ فراہم کنندگان کو ایک پلیٹ فارم پر لانا چاہتی ہے، اور ڈائیوو ایکسپریس الیکٹرک بسوں کے بیڑے اور چارجنگ کا ڈھانچہ بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
تقریب میں سرکاری نمائندوں، سرمایہ کاروں اور صنعت سے وابستہ افراد نے شرکت کی، جس میں نجی شعبے کی موسمیاتی سرمایہ کاری کی راہ میں پالیسی، ریگولیٹری اور مارکیٹ کی رکاوٹیں دور کرنے پر بات ہوئی۔ کراچی میں برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر ایلیسن بلیک برن نے وسائل جمع کرنے، موسمیاتی اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت اور مضبوط پالیسی فریم ورک جیسی ترجیحات پر بات کی۔ گزشتہ دسمبر حکومت پاکستان کے ساتھ طے پانے والا یو کے پاکستان گرین کمپیکٹ مشترکہ موسمیاتی اقدامات کا فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
سندھ کے وزیر بلدیات، ہاؤسنگ اور ٹاؤن پلاننگ سید ناصر حسین شاہ نے نجی شعبے اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر موسمیاتی اقدامات کے لیے مالی وسائل جمع کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ سی ایف اے پاکستان کی ٹیم لیڈ وردہ ملک نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد سرمایہ کاری کے لیے تیار کاروباری اداروں کو ایسے سرمایہ کاروں سے ملانا ہے جو ان کے منصوبوں کی مالی معاونت کر سکیں۔
یہ کیوں اہم ہے
رپورٹس کے مطابق سرمایہ کاری مل جائے تو صاف توانائی، ٹرانسپورٹ، تعمیرات اور کچرے کی ری سائیکلنگ کے منصوبوں سے پاکستان میں روزگار کے مواقع بن سکتے ہیں اور آلودگی کم ہو سکتی ہے۔



