ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان4 ذرائع سے تصدیق شدہ

ڈی جی آئی ایس پی آر: خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی کے سہولت کاروں میں تھی

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی نااہل اور لاتعلق حکومت بھی دہشت گردی کے سہولت کاروں میں شامل تھی۔ ان کے مطابق روزانہ تقریباً 200 انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن کیے جاتے ہیں۔

Representatives from over 27 countries and 19 organizations pose together at the start of the Global Counterterrorism Forum - West Africa Working Group on Bord…
Representatives from over 27 countries and 19 organizations pose together at the start of the Global Counterterrorism Forum - West Africa Working Group on Bord… تصویر: Maj. Jonathan David Thompson / Wikimedia Commons
اہم نکات
  • ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت سہولت کاروں میں شامل تھی۔
  • ان کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی میں رکاوٹ ڈالنے والا ایک سہولت کار اب موجود نہیں۔
  • روزانہ تقریباً 200 انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن کیے جاتے ہیں۔
  • یہ بات رائٹرز کو 30 اکتوبر 2026 کے انٹرویو میں کہی گئی۔
تقریباً 200روزانہ انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن
20دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سال
30 اکتوبر 2026انٹرویو کی تاریخ

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کی نااہل اور لاتعلق حکومت بھی دہشت گردی کے سہولت کاروں میں شامل تھی۔ ایکسپریس نیوز اور ڈیلی پاکستان کے مطابق یہ بات انہوں نے رائٹرز کو 30 اکتوبر 2026 کو دیے گئے انٹرویو میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے والا ایک سہولت کار اب وہاں موجود نہیں۔ حکومت کی تبدیلی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی معاملہ ہے، تاہم تبدیلی آئینی اور قانونی طریقہ کار کے مطابق ہوئی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی دہشت گردی سے نمٹنے کی واضح حکمت عملی ہے، جس میں ملک کے اندر دہشت گردوں اور ان کے تمام سہولت کاروں کا خاتمہ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے جڑے کچھ معاملات اندرونی طور پر حل کرنا ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں کوئی بھی انسداد دہشت گردی آپریشن کی مخالفت نہیں کرتا، صرف وہی کرتے ہیں جن کا دہشت گردوں سے تعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ نقصان صوبے کے عوام نے اٹھایا۔

انہوں نے بتایا کہ صوبے میں بڑے فوجی آپریشن کے بجائے انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق سکیورٹی فورسز روزانہ تقریباً 200 ایسے آپریشن کرتی ہیں، جو پولیس، فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر انجام دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سوچ بھارت سے مختلف ہے، جو ہر اندرونی مسئلے کو بیرونی قرار دیتا ہے۔ ان کے مطابق افغانستان وہ بنیاد ہے جہاں سے پاکستان میں دہشت گردی کی جاتی ہے اور وہاں دہشت گرد قیادت، تربیتی کیمپ اور لانچ پیڈ موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ ملک میں تمام دہشت گردی صرف افغانستان کی وجہ سے ہے، اور 20 سال کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا جو تجربہ پاکستان کے پاس ہے وہ کسی ملک یا فوج کے پاس نہیں۔

بلوچستان کے بارے میں ایکسپریس نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ دہشت گرد اپنے آقاؤں کے حکم پر ترقی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق وہ کان کنی کے مقامات، ایل پی جی ٹرکوں، سکولوں اور اساتذہ پر حملے کرتے ہیں اور معاشی سرگرمی روکنے کے لیے پل اور ریلوے لائنیں تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی اشرافیہ عام لوگوں کو غریب اور ناخواندہ رکھ کر اپنا اثر برقرار رکھنا چاہتی ہے، اور دہشت گرد و اشرافیہ مل کر کام کرتے ہیں کیونکہ دونوں صوبے کی ترقی کے مخالف ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

ان بیانات میں صوبائی حکمرانی کو دہشت گردی سے جوڑا گیا ہے اور خیبرپختونخوا و بلوچستان میں سکیورٹی کارروائیوں کا ذکر ہے، جس کا اثر ان علاقوں کے رہائشیوں پر پڑتا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

ڈی جی آئی ایس پی آرخیبرپختونخوادہشت گردی

اس خبر پر مزید