روپے کی گراوٹ سے بھاشا اور داسو ڈیم کی لاگت 1.9 ٹریلین بڑھ گئی
وزارت آبی وسائل نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ بھاشا اور داسو منصوبوں کی تخمینہ لاگت مجموعی طور پر 1.896 ٹریلین روپے بڑھ گئی ہے۔ وزارت نے اس کی وجہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی بتائی۔

- بھاشا اور داسو کی مجموعی لاگت میں 1.896 ٹریلین روپے اضافہ
- دیامر بھاشا کی لاگت 479 ارب سے بڑھ کر 1.121 ٹریلین روپے ہوئی
- داسو کی لاگت 486 ارب سے بڑھ کر 1.740 ٹریلین روپے ہوئی
وزارت آبی وسائل نے قومی اسمبلی میں تفصیلات پیش کیں جن کے مطابق گزشتہ برسوں میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر گرنے سے دیامر بھاشا اور داسو پن بجلی منصوبوں کی تخمینہ لاگت مجموعی طور پر 1.896 ٹریلین روپے بڑھ گئی ہے۔
دیامر بھاشا ڈیم کی تخمینہ لاگت 642 ارب روپے بڑھ کر 479 ارب سے 1.121 ٹریلین روپے ہو گئی۔ وزارت نے اس اضافے کی وجہ زرمبادلہ کی شرحوں میں تبدیلی بتائی۔ ڈیم کا نظرثانی شدہ پی سی ون وزارت آبی وسائل کو جمع کرایا جا چکا ہے۔
داسو پن بجلی منصوبے کی تخمینہ لاگت 486 ارب روپے سے بڑھ کر 1.740 ٹریلین روپے ہو گئی۔ یہ 1.254 ٹریلین روپے یا تقریباً 260 فیصد اضافہ ہے۔
حکومت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات اور تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں تیز اضافے سے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی لاگت بڑھی۔
بتائے گئے اعداد کے مطابق سیمنٹ کی بوری 204 فیصد مہنگی ہو کر 530 سے 1,610 روپے ہو گئی۔ ہائی سپیڈ ڈیزل 472 فیصد بڑھ کر 72 سے 414 روپے فی لیٹر ہوا۔ سریا اور لوہا 268 فیصد بڑھ کر 72,000 سے 265,000 روپے فی میٹرک ٹن ہو گیا۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اسمبلی میں گندم پر بھی بات ہوئی۔ پاسکو کے خاتمے کے بعد موجود ذخائر کی تقسیم کے لیے اداروں اور صوبوں کو خطوط بھیجے گئے ہیں اور بلوچستان، آزاد کشمیر اور دیگر علاقوں کو گندم دی جا رہی ہے۔ درآمدی گندم گوداموں تک پہنچ چکی ہے اور اس کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے ڈیش بورڈ والا ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا ہے۔
پارلیمانی سیکرٹری برائے قومی غذائی تحفظ شائستہ خان نے کہا کہ پاسکو مالی اور انتظامی مسائل کے باعث زوال کا شکار ہوئی کیونکہ کچھ صوبے اس کے واجبات اور بل بروقت ادا نہیں کر رہے تھے۔ حکومت نجی شعبے کو شامل کرنا چاہتی ہے اور کمپنیوں کی جوابدہی کا نظام بنایا جا رہا ہے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی نے چار حکومتی بل اکثریتی ووٹ سے منظور کیے، جن میں ہائر ایجوکیشن کمیشن ترمیمی بل 2026 اور نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی ترمیمی بل 2026 شامل ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
ڈیموں کی بڑھتی لاگت بجلی کے نرخوں اور سرکاری اخراجات پر اثر ڈالے گی جو پاکستانی صارفین اور ٹیکس دہندگان ادا کرتے ہیں۔



