ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان2 ذرائع سے تصدیق شدہ

آئینی عدالت نے انکم سپورٹ لیوی ایکٹ پر 1178 نظرثانی درخواستیں خارج کر دیں

وفاقی آئینی عدالت نے انکم سپورٹ لیوی ایکٹ 2013 کے فیصلے کے خلاف 1178 نظرثانی درخواستیں خارج کر دیں۔ عدالت نے سابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا 28 دسمبر 2021 کا فیصلہ برقرار رکھا۔

This is a photo of a monument in Pakistan identified as the
This is a photo of a monument in Pakistan identified as the تصویر: Usman.pg / Wikimedia Commons, CC BY-SA 3.0
اہم نکات
  • وفاقی آئینی عدالت نے انکم سپورٹ لیوی ایکٹ 2013 سے متعلق 1178 نظرثانی درخواستیں خارج کیں۔
  • سابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا 28 دسمبر 2021 کا فیصلہ برقرار رکھا گیا۔
  • عدالت کے مطابق پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری آئینی طور پر لازم ہے۔
1178خارج کی گئی نظرثانی درخواستیں
28 دسمبر 2021برقرار رکھے گئے فیصلے کی تاریخ
21 جون 2022بعد کے بینچ کا فیصلہ

وفاقی آئینی عدالت نے انکم سپورٹ لیوی ایکٹ 2013 کے فیصلے کے خلاف دائر 1178 نظرثانی درخواستیں خارج کر دی ہیں۔ ایکسپریس نیوز اور ڈیلی پاکستان کے مطابق عدالت کے چیف جسٹس نے تحریری فیصلہ جاری کیا۔

عدالت نے سابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا 28 دسمبر 2021 کا فیصلہ برقرار رکھا۔ اس تاریخ کو سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے کمشنر انلینڈ ریونیو بنام محمد مصطفیٰ کیس میں اپیل خارج کی تھی۔

نظرثانی درخواستیں زیر التوا تھیں کہ 21 جون 2022 کو تین رکنی بینچ نے تقریباً اسی سوال پر مبنی ایک اور مقدمے میں اپیل منظور کر لی۔ یہ فیصلہ جسٹس منیب اختر نے تحریر کیا تھا۔ آئینی عدالت نے کہا کہ بعد کے بینچ کے فیصلے سے عدالتی نظم و ضبط اور ادارہ جاتی طریقہ کار پر سنگین سوالات پیدا ہوئے۔

عدالت نے کہا کہ بینچوں کو سابقہ فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے اور کسی الگ مقدمے میں اپیل کامیاب ہونے سے پہلے فیصلہ خود بخود تبدیل نہیں ہوتا۔ عدالت کے مطابق فیصلہ اس وقت تک مؤثر رہتا ہے جب تک قانون میں ترمیم نہ ہو، اسے منسوخ نہ کیا جائے یا کالعدم قرار نہ دیا جائے۔

عدالت نے کہا کہ سینیٹ کو نظرانداز کر کے قانون سازی نہیں کی جا سکتی۔ اس کے مطابق آئین کے آرٹیکل 70 اور 73 قانون سازی کا طریقہ کار طے کرتے ہیں اور لیوی کو منی بل کے طور پر برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔

عدالت نے کہا کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری آئینی طور پر لازمی ہے، محض رسمی کارروائی نہیں، اور سینیٹ وفاقی اکائیوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ ایکٹ کی منظوری میں آئینی خامی کو محض بے قاعدگی نہیں کہا جا سکتا۔

نظرثانی کے دائرہ اختیار پر عدالت نے کہا کہ یہ محدود اور استثنائی ہے اور ریکارڈ پر موجود واضح غلطیاں درست کرتا ہے۔ نظرثانی کا اختیار اپیل کے اختیار کے برابر نہیں ہو سکتا، اور طے شدہ تنازعات اسی صورت دوبارہ نہیں کھل سکتے جب تک نظرثانی کے معیار کی واضح غلطی نہ ملے۔

رپورٹس کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے ایکٹ کو نافذ کرنے کی اجازت نہیں دی تھی، جبکہ سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ فنانس ایکٹ کی منظوری سے پہلے آئینی طریقہ کار پر عمل نہیں ہوا۔

یہ کیوں اہم ہے

انکم سپورٹ لیوی پیٹرولیم مصنوعات پر لگائی جاتی ہے، اس لیے یہ فیصلہ ایندھن کی قیمتوں اور حکومتی آمدن سے تعلق رکھتا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

آئینی عدالتانکم سپورٹ لیویسینیٹ

اس خبر پر مزید