بائنینس سے 6.3 ارب ڈالر کی کرپٹو چوری، شمالی کوریا پر شبہ
بائنینس تقریباً 6.3 ارب ڈالر کے اثاثے واپس لینے کی کوشش کر رہا ہے، جسے کرپٹو کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری قرار دیا جا رہا ہے۔ فرانس 24 کے مطابق تجزیہ کار شمالی کوریا کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔

یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں، سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں۔ قیمتیں تیزی سے بدلتی ہیں، اس لیے ہر عدد کا وقت اور ذریعہ ضرور دیکھیں۔
- جمعرات کو بائنینس کے آف شور پلیٹ فارم پر سکیورٹی واقعے میں تقریباً 6.3 ارب ڈالر کے اثاثے متاثر ہوئے۔
- یہ کرپٹو کی اب تک کی سب سے بڑی چوری ہے، جبکہ فروری 2025 میں بائبٹ سے 1.5 ارب ڈالر چوری ہوئے تھے۔
- بائنینس نے متاثرہ صارفین کا نقصان پورا کرنے کا اعلان کیا۔
بائنینس جمعرات کو اپنے پلیٹ فارم پر پیش آنے والے سکیورٹی واقعے کے بعد تقریباً 6.3 ارب ڈالر کے اثاثے واپس حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سی این بی سی کے مطابق یہ کرپٹو کی اب تک کی سب سے بڑی چوری ہے۔ فرانس 24 نے لکھا کہ ہیکرز نے مبینہ طور پر صارفین سے یہ رقم چرائی اور تجزیہ کار شمالی کوریا کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
فرانس 24 کے مطابق یہ چوری سابقہ ریکارڈ سے کہیں زیادہ ہے۔ فروری 2025 میں ہیکرز نے کرپٹو ایکسچینج بائبٹ سے 1.5 ارب ڈالر چرائے تھے۔
سی این بی سی کے مطابق واقعہ بائنینس کے آف شور پلیٹ فارم پر پیش آیا، جبکہ اس کے ریگولیٹڈ امریکی ایکسچینج میں ایسا مسئلہ نہیں ہوا۔ بائنینس نے کہا کہ وہ متاثرہ صارفین کا نقصان پورا کرے گا۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں بائنینس نے کہا کہ ہیک میں ایک ڈیوآپس انجینئر کا متاثرہ لیپ ٹاپ ملوث ہو سکتا ہے۔ بعد کی پوسٹ میں اس نے بتایا کہ تحقیقات میں خلاف ورزی کے مزید مقامات سامنے آئے ہیں، تاہم ان کی تفصیل نہیں دی۔
اسی ہفتے پیش گوئی کی مارکیٹ پلیٹ فارم پولی مارکیٹ بھی متاثر ہوا۔ سی این بی سی کے مطابق جمعرات کو ایک تھرڈ پارٹی ڈیٹا فراہم کنندہ ہیک ہونے کے بعد اس نے اپنے بین الاقوامی ایکسچینج پر ٹریڈنگ عارضی طور پر روک دی۔ صارفین کے والٹس سے کم از کم 27 لاکھ ڈالر نکالے گئے۔ پولی مارکیٹ نے بھی متاثرہ صارفین کا نقصان پورا کرنے کا کہا، اور اس کا مقامی ایکسچینج متاثر نہیں ہوا۔
سی این بی سی کے مطابق امریکی ریگولیٹڈ پلیٹ فارمز کوائن بیس اور رابن ہڈ بائنینس کی خلاف ورزی سے متاثر نہیں ہوئے، البتہ جمعہ کو ان کے شیئرز گرے۔ سی ایف ٹی سی کے چیئرمین مائیکل سیلگ نے کہا کہ ان واقعات کا آف شور ہونا اہم ہے، اور ایکسچینجز کے لیے سی ایف ٹی سی میں رجسٹر ہونے کا وفاقی راستہ تجویز کیا۔ انہوں نے کہا: "ان کے پاس ویسے حفاظتی انتظامات نہیں جیسے ہماری مالیاتی منڈیوں میں ہیں" (انگریزی سے ترجمہ)۔ برٹ فالک نے کہا کہ امریکی ضوابط شاید بائنینس کے واقعے کو نہ روک پاتے۔
سی این بی سی کے انٹرویو کیے گئے ماہرین اس پر متفق نہیں کہ ایکسچینجز پر رقم رکھنے والوں کو فکر کرنی چاہیے یا نہیں۔ ان کے مطابق مزید واقعات کا امکان ہے، خاص طور پر اس لیے کہ مصنوعی ذہانت موجودہ سائبر سکیورٹی نظام کی خامیاں ڈھونڈ لیتی ہے۔ گلوبل سیٹلمنٹ نیٹ ورک کے سی ای او رائن کرکلی نے کہا: "میرے خیال میں اس وقت منڈی میں ایسا کوئی عام حل نہیں جس میں آپ کے اثاثے واقعی محفوظ ہوں" (انگریزی سے ترجمہ)۔ سی این بی سی کے مطابق امریکا میں بینک ڈپازٹس پر ایف ڈی آئی سی فی کھاتہ دار فی بینک 250,000 ڈالر تک انشورنس دیتا ہے، مگر کرپٹو ایکسچینج سے ضائع ہونے والی رقم کے لیے ایسی کوئی انشورنس دستیاب نہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستان میں ڈیجیٹل والٹس اور آن لائن پلیٹ فارمز استعمال کرنے والے اس واقعے سے سمجھ سکتے ہیں کہ بڑی سائبر چوریاں کیسے ہوتی ہیں۔ سی این بی سی کے مطابق کرپٹو ایکسچینج سے ضائع ہونے والی رقم کو امریکا میں بینک ڈپازٹس جیسی انشورنس حاصل نہیں۔


