بلاول: سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں پر بحث ختم کر دی ہے
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے منگل کو کہا کہ سندھ اسمبلی سندھ میں مزید انتظامی یونٹس کے معاملے پر فیصلہ کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کے مستقبل کا فیصلہ صرف سندھ کے عوام کر سکتے ہیں۔

- بلاول کے مطابق سندھ اسمبلی مزید انتظامی یونٹس کا معاملہ طے کر چکی ہے اور بحث ختم ہونی چاہیے۔
- ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم پر وفاق میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
- انہوں نے کراچی میں اسپنسرز آئی اسپتال کے پبلک پرائیویٹ منصوبے کی توسیع کے افتتاح کے بعد گفتگو کی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے منگل کو کہا کہ سندھ اسمبلی صوبے میں مزید انتظامی یونٹس کے معاملے پر اپنا فیصلہ کر چکی ہے اور اب یہ بحث ختم ہونی چاہیے۔
وہ کراچی کے علاقے لیاری میں ڈاکٹر کیخسرو نانابھائے اسپنسرز آئی اسپتال کی بحالی کے پبلک پرائیویٹ منصوبے کی توسیع کا افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ بلاول نے سندھ کی تقسیم کے خلاف پیپلز پارٹی کے موقف کو دہرایا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ پارٹی اور اسمبلی بارہا اپنا موقف واضح کر چکی ہیں اور منتخب نمائندوں نے عوام کی رائے کی ترجمانی کی ہے۔
بلاول کے مطابق صوبے کے مستقبل کا فیصلہ صرف سندھ کے عوام کر سکتے ہیں اور کسی اور کو اس کے شہروں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست دانوں کو نفرت اور تقسیم پھیلانے کے بجائے عوام کی خدمت پر توجہ دینی چاہیے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق انہوں نے بعض سیاسی نمائندوں پر عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے تقسیم کو فروغ دینے پر تنقید کی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وفاقی حکومت یا اس کی اتحادی جماعتوں میں مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے 18ویں ترمیم میں تبدیلی کی تجاویز پر بات ہوئی ہے، تو انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ 24 نیوز کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے مجوزہ ترمیم پر مشاورت نہیں کی۔
بلاول نے کہا کہ کراچی پاکستان کا معاشی مرکز ہے اور اسے وفاقی، صوبائی اور مقامی اداروں کے مضبوط تعاون کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت اور دیگر اداروں کو شہر کی ترقی پر توجہ دینا ہوگی، اور ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق انہوں نے کراچی کے جائز حصے کے معاملے پر وفاق کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے بجلی کے بحران پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ بجلی یا تو دستیاب نہیں یا بہت مہنگی ہے۔ ان کے مطابق اسپتال کو سولر پاور پر منتقل کیا گیا ہے اور وہ لیاری بھر میں ایسے ہی انتظامات کے ذریعے سستی بجلی فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے غربت اور بے روزگاری کو ملک کے بڑے چیلنج قرار دیا۔
24 نیوز کے مطابق اسپتال کو 6 اپریل 2026 کو میئر مرتضیٰ وہاب کے تحت بحال کر کے دوبارہ کھولا گیا اور یہاں روزانہ تقریباً 4,000 مریضوں کو آنکھوں کی مفت او پی ڈی سہولت ملتی ہے۔ میئر کے مطابق اس کا سنگ بنیاد 1938 میں رکھا گیا اور یہ 1940 میں فعال ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ آپریشن تھیٹر بھی کام کر رہا ہے اور دوائیں اور چشمے رعایتی نرخوں پر دیے جا رہے ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
سندھ سے نئے صوبے بنانے کی تجاویز ملک کے وفاقی ڈھانچے کو بدل سکتی ہیں، اور صوبے میں حکمران پیپلز پارٹی نے اپنی مخالفت دہرائی ہے۔ ان بیانات میں کراچی کی بجلی اور مفت علاج جیسی سہولتوں کا ذکر بھی شامل ہے۔



