بلوچستان میں مزید 72 ڈاکٹر غیر حاضری پر برطرف، تعداد 200 ہو گئی
بلوچستان حکومت نے طویل غیر حاضری پر مزید 72 ڈاکٹروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے، جس کے بعد محکمہ صحت کے برطرف ملازمین کی تعداد 200 ہو گئی ہے۔ یہ کارروائی مصنوعی ذہانت پر مبنی حاضری کے نظام کے تحت کی گئی۔

- بلوچستان میں غیر حاضری پر مزید 72 ڈاکٹر برطرف
- محکمہ صحت کے برطرف ملازمین کی کل تعداد 200
- غیر حاضری پر ملازمین کی تنخواہوں سے 41 کروڑ روپے کی کٹوتی
- 11 ہزار ملازمین کو وضاحت کے نوٹس جاری
بلوچستان حکومت نے سرکاری ڈیوٹی سے طویل غیر حاضری پر مزید 72 ڈاکٹروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ محکمہ صحت نے ہفتے کو اعلان کیا کہ یہ کارروائی مصنوعی ذہانت پر مبنی حاضری کی نگرانی کے نظام کے تحت کی گئی۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق برطرف ہونے والوں میں میڈیکل آفیسر اور سینئر میڈیکل آفیسر شامل ہیں، جن کا تعلق گریڈ 17 اور 18 سے ہے۔ نوٹیفکیشن میں بلا اجازت غیر حاضری کو وجہ قرار دیا گیا اور برطرفی فوری طور پر نافذ ہو گئی۔ یہ کارروائی بلوچستان ایمپلائز ایفیشنسی اینڈ ڈسپلنری ایکٹ 2011 کی شق 4 بی (viii) کے تحت کی گئی۔
اس کارروائی کے بعد محکمہ صحت کے برطرف ملازمین کی مجموعی تعداد 200 تک پہنچ گئی ہے۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے ان اقدامات کا اعلان ایکس پر جاری بیان میں کیا۔
محکمہ صحت کے حکام کے مطابق غیر حاضری پر ملازمین کی تنخواہوں سے 41 کروڑ روپے کی کٹوتی کی جا چکی ہے۔
محکمے نے 11 ہزار ملازمین کو حاضری اور نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں پر وضاحت کے لیے نوٹس جاری کیے ہیں۔ مزید 800 ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی جاری ہے۔
وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا کہ برطرف ڈاکٹروں کو بار بار نوٹس دے کر ڈیوٹی پر واپس آنے کی ہدایت کی گئی، مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ان کے مطابق حکومت طبی عملے میں غیر حاضری اور غفلت کے خلاف زیرو ٹالرنس رکھتی ہے۔
محکمہ صوبے بھر میں صحت کی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ اصلاحات وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر جاری ہیں اور صوبائی حکومت ہسپتالوں اور صحت مراکز میں حاضری کی نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت کا نظام استعمال کر رہی ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
بلوچستان کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا انحصار ڈاکٹروں کی موجودگی پر ہے، اس لیے حاضری کے نفاذ اور برطرفیوں کا اثر صوبے میں خدمات کی سطح پر پڑتا ہے۔



