ابھی ابھیغیر ملکی معدنی سرمایہ کاروں کے لیے ٹیکس مراعات کا منصوبہسپریم کورٹ: بیوی پر تشدد سرکاری ملازم کی سروس سے متعلق بدعنوانی ہےپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیوروں کی آمدن میں کمی
پاکستان7 ذرائع سے تصدیق شدہ

اظفر علی ناصر سوشل میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرپرسن مقرر

وفاقی حکومت نے اظفر علی ناصر کو سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کا پانچ سال کے لیے چیئرپرسن مقرر کر دیا ہے۔ وزارت داخلہ کا نوٹیفکیشن 30 اکتوبر 2026 کی تاریخ کا ہے۔

Photo: media, social media, apps, social network
Photo: media, social media, apps, social network تصویر: Pixelkult / Pixabay
اہم نکات
  • اظفر علی ناصر پانچ سال کے لیے اتھارٹی کے چیئرپرسن مقرر
  • وزارت داخلہ کا نوٹیفکیشن 30 اکتوبر 2026 کا ہے
  • وہ پنجاب کی نگران حکومت میں وزیر رہ چکے ہیں
5 سالتعیناتی کی مدت
30 اکتوبر 2026نوٹیفکیشن کی تاریخ

وفاقی حکومت نے بیرسٹر سید اظفر علی ناصر کو سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کا چیئرپرسن مقرر کر دیا ہے۔ وزارت داخلہ و انسداد منشیات نے تعیناتی کی تصدیق کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا، جس کے مطابق مدت پانچ سال ہے۔

نوٹیفکیشن 30 اکتوبر 2026 کی تاریخ کا ہے۔ ٹوئنٹی فور نیوز کے مطابق، جس نے 24 نیوز ایچ ڈی ٹی وی چینل کا حوالہ دیا، وزارت نے یہ نوٹیفکیشن ہفتے کو جاری کیا۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق تعیناتی الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے (ترمیمی) ایکٹ 2025 کی شق 2 ڈی کے تحت کی گئی۔

اظفر علی ناصر پنجاب کی نگران حکومت میں وزیر رہ چکے ہیں اور ان کے پاس مذہبی امور، ہاؤسنگ اور شہری ترقی کے محکمے تھے۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق وہ راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور پنجاب سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین بھی رہے ہیں۔

ڈیلی پاکستان کے مطابق اتھارٹی کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی رجسٹریشن اور لائسنسنگ کی نگرانی اور تعمیل کی ہدایات طے کرنے کا اختیار ہے۔ وہ غیر قانونی آن لائن مواد کی شکایات کی تحقیقات کر سکتی ہے اور ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والا مواد ہٹانے یا بلاک کرنے کی ہدایت دے سکتی ہے۔

اسی رپورٹ کے مطابق جو پلیٹ فارمز قانونی تقاضے پورے نہ کریں، ان کے خلاف اتھارٹی جرمانے اور ریگولیٹری کارروائی کر سکتی ہے، جس میں کام پر پابندیاں بھی شامل ہیں۔ یہ ادارہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ 2016 میں 2025 کی ترامیم کے تحت قائم کیا گیا۔

ڈیلی پاکستان نے بتایا کہ مارچ 2026 میں اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل ایاز شوکت کو اتھارٹی کا پہلا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ صحافیوں کی تنظیموں اور انسانی حقوق کے گروپوں نے سائبر کرائم قوانین کے تحت اظہار رائے پر ممکنہ پابندیوں اور ریگولیٹری اختیارات کے غلط استعمال پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ حکومت نے سخت ڈیجیٹل ضوابط کو غلط معلومات اور آن لائن نقصان سے نمٹنے کے لیے ضروری قرار دے کر ان کا دفاع کیا ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

یہ اتھارٹی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور آن لائن مواد کے قواعد کی نگرانی کرتی ہے جن کا اثر پاکستان بھر کے صارفین پر پڑتا ہے۔ صحافیوں کی تنظیموں اور حقوق کے گروپوں نے اس کے اختیارات پر تحفظات ظاہر کیے ہیں، جبکہ حکومت کے مطابق غلط معلومات اور آن لائن نقصان کے لیے سخت ضوابط ضروری ہیں۔

غلطی کی نشاندہی کریں

سوشل میڈیا اتھارٹیسوشل میڈیاپیکا

اس خبر پر مزید