ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف سکیورٹی بیریئرز کیس کا فیصلہ محفوظ
انسداد دہشت گردی عدالت نے انسانی حقوق کے وکلا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف سکیورٹی بیریئرز کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ فیصلہ جمعرات 29 اکتوبر کو اڈیالہ جیل میں سنایا جائے گا۔

- عدالت نے منگل کو حتمی دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا۔
- فیصلہ 29 اکتوبر کو اڈیالہ جیل میں سنایا جائے گا۔
- دونوں ملزمان نے سی آر پی سی کی دفعہ 342 کے تحت بیانات قلمبند کرائے۔
- مقدمہ بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے روٹ پر رکاوٹیں ہٹانے کے الزام سے متعلق ہے۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے منگل کو انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف اسلام آباد میں سکیورٹی بیریئرز ہٹانے کے مقدمے کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ فیصلہ جمعرات 29 اکتوبر کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ملزمان کی موجودگی میں سنایا جائے گا۔
مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی۔ دونوں ملزمان نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اپنے بیانات قلمبند کرائے اور سرکاری وکیل نے حتمی دلائل مکمل کیے، جس کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا۔
استغاثہ کے مطابق دونوں پر الزام ہے کہ انہوں نے اسلام آباد میں بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے سکیورٹی روٹ پر لگی رکاوٹیں ہٹائیں اور سرکاری امور میں خلل ڈالا۔ استغاثہ نے ان پر عوام کو بدامنی پر اکسانے کا الزام بھی لگایا ہے۔
عدالت نے 7 اکتوبر کو دونوں پر فرد جرم عائد کی تھی۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق ملزمان نے اعتراض کیا کہ انہیں مقدمے کے ریکارڈ کی نقول نہیں دی گئیں اور کارروائی سے پہلے وکلا سے ملنے کی اجازت بھی نہیں ملی، مگر عدالت نے اس کے باوجود فرد جرم کی کارروائی مکمل کی۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق دفاع نے یہ مؤقف بھی اپنایا کہ قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔
عدالت نے استغاثہ کے تمام سات گواہوں کے بیانات قلمبند کیے۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق دفاعی وکلا مقررہ وقت میں گواہوں پر جرح مکمل نہیں کر سکے، جس پر عدالت نے سرکاری وکیل مقرر کیا اور اعتراضات کے بعد تیمور جنجوعہ کی جگہ عاطف محمود کو ذمہ داری دی گئی۔ سرکاری وکیل نے 23 اکتوبر کو گواہوں پر جرح مکمل کی۔ ملزمان کی عدالت میں پیشی اور وکلا کی رسائی پر تنازعات کے بعد ٹرائل اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تھا۔
پیر کو دونوں نے ٹرائل روکنے کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ بیریئرز ہٹانا دہشت گردی نہیں، ٹرائل جلد بازی میں شروع کیا گیا اور اس کا مقصد انہیں ہراساں کرنا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 19 اکتوبر کو مقدمے سے انسداد دہشت گردی کی دفعات ہٹانے کی درخواستوں پر عبوری حکم دینے سے انکار کیا تھا، تاہم ٹرائل معطل کرنے کی الگ درخواست پر نوٹس جاری کیے تھے۔
جنوری میں دونوں کو سائبر کرائم قوانین کے تحت سوشل میڈیا پوسٹس کے مقدمے میں مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ سپریم کورٹ سے ضمانت اور سزائیں معطل ہونے کے بعد انہیں 17 ستمبر کو دوبارہ گرفتار کیا گیا۔ اس موقع پر جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے پولیس کی 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کر کے جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجا اور کہا کہ کسی ملزم سے کوئی ہتھیار منسوب نہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
اسلام آباد میں انسانی حقوق کے دو معروف وکلا سے متعلق اس اہم مقدمے کا فیصلہ 29 اکتوبر کو متوقع ہے، جس میں انسداد دہشت گردی قانون کا اطلاق زیر بحث ہے۔



