ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان3 ذرائع سے تصدیق شدہ

ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے خلاف سکیورٹی بیریئرز کیس کا فیصلہ محفوظ

انسداد دہشت گردی عدالت نے انسانی حقوق کے وکلا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف سکیورٹی بیریئرز کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ فیصلہ جمعرات 29 اکتوبر کو اڈیالہ جیل میں سنایا جائے گا۔

Here is an hdr photograph taken from the courtroom inside Beverley Guildhall. Located in Beverley , East Riding of Yorkshire , England.
Here is an hdr photograph taken from the courtroom inside Beverley Guildhall. Located in Beverley , East Riding of Yorkshire , England. تصویر: Michael D Beckwith / Wikimedia Commons
اہم نکات
  • عدالت نے منگل کو حتمی دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا۔
  • فیصلہ 29 اکتوبر کو اڈیالہ جیل میں سنایا جائے گا۔
  • دونوں ملزمان نے سی آر پی سی کی دفعہ 342 کے تحت بیانات قلمبند کرائے۔
  • مقدمہ بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے روٹ پر رکاوٹیں ہٹانے کے الزام سے متعلق ہے۔
29 اکتوبرفیصلے کی تاریخ
7 اکتوبرفرد جرم
7استغاثہ کے گواہ

انسداد دہشت گردی عدالت نے منگل کو انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف اسلام آباد میں سکیورٹی بیریئرز ہٹانے کے مقدمے کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ فیصلہ جمعرات 29 اکتوبر کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ملزمان کی موجودگی میں سنایا جائے گا۔

مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہوئی۔ دونوں ملزمان نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اپنے بیانات قلمبند کرائے اور سرکاری وکیل نے حتمی دلائل مکمل کیے، جس کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا۔

استغاثہ کے مطابق دونوں پر الزام ہے کہ انہوں نے اسلام آباد میں بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے سکیورٹی روٹ پر لگی رکاوٹیں ہٹائیں اور سرکاری امور میں خلل ڈالا۔ استغاثہ نے ان پر عوام کو بدامنی پر اکسانے کا الزام بھی لگایا ہے۔

عدالت نے 7 اکتوبر کو دونوں پر فرد جرم عائد کی تھی۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق ملزمان نے اعتراض کیا کہ انہیں مقدمے کے ریکارڈ کی نقول نہیں دی گئیں اور کارروائی سے پہلے وکلا سے ملنے کی اجازت بھی نہیں ملی، مگر عدالت نے اس کے باوجود فرد جرم کی کارروائی مکمل کی۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق دفاع نے یہ مؤقف بھی اپنایا کہ قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔

عدالت نے استغاثہ کے تمام سات گواہوں کے بیانات قلمبند کیے۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق دفاعی وکلا مقررہ وقت میں گواہوں پر جرح مکمل نہیں کر سکے، جس پر عدالت نے سرکاری وکیل مقرر کیا اور اعتراضات کے بعد تیمور جنجوعہ کی جگہ عاطف محمود کو ذمہ داری دی گئی۔ سرکاری وکیل نے 23 اکتوبر کو گواہوں پر جرح مکمل کی۔ ملزمان کی عدالت میں پیشی اور وکلا کی رسائی پر تنازعات کے بعد ٹرائل اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تھا۔

پیر کو دونوں نے ٹرائل روکنے کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ بیریئرز ہٹانا دہشت گردی نہیں، ٹرائل جلد بازی میں شروع کیا گیا اور اس کا مقصد انہیں ہراساں کرنا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 19 اکتوبر کو مقدمے سے انسداد دہشت گردی کی دفعات ہٹانے کی درخواستوں پر عبوری حکم دینے سے انکار کیا تھا، تاہم ٹرائل معطل کرنے کی الگ درخواست پر نوٹس جاری کیے تھے۔

جنوری میں دونوں کو سائبر کرائم قوانین کے تحت سوشل میڈیا پوسٹس کے مقدمے میں مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ سپریم کورٹ سے ضمانت اور سزائیں معطل ہونے کے بعد انہیں 17 ستمبر کو دوبارہ گرفتار کیا گیا۔ اس موقع پر جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے پولیس کی 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کر کے جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجا اور کہا کہ کسی ملزم سے کوئی ہتھیار منسوب نہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

اسلام آباد میں انسانی حقوق کے دو معروف وکلا سے متعلق اس اہم مقدمے کا فیصلہ 29 اکتوبر کو متوقع ہے، جس میں انسداد دہشت گردی قانون کا اطلاق زیر بحث ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

ایمان مزاریانسداد دہشت گردی عدالتاڈیالہ جیل

اس خبر پر مزید