احسن بھون کا کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف 5 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ
جوڈیشل کمیشن کے رکن احسن بھون نے کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف پنجاب ڈیفیمیشن ٹربیونل میں 5 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا ہے۔ ٹربیونل نے دعوے کو قابل سماعت قرار دے کر 11 نومبر 2026 کے لیے نوٹس جاری کر دیا۔

- احسن بھون نے کیپٹن (ر) محمد صفدر سے 5 ارب روپے ہرجانہ مانگا ہے
- پنجاب ڈیفیمیشن ٹربیونل نے دعوے کو قابل سماعت قرار دیا
- صفدر کو 11 نومبر 2026 کے لیے نوٹس جاری ہوا
- دعویٰ ڈگری اور وکالت کی اہلیت سے متعلق بیانات پر ہے
جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے رکن اور سینئر وکیل احسن بھون نے لاہور میں پنجاب ڈیفیمیشن ٹربیونل میں کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف 5 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر دیا ہے۔
ٹربیونل نے دعوے کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے کیپٹن (ر) محمد صفدر کو 11 نومبر 2026 کے لیے نوٹس جاری کیا ہے۔ منٹ مرر کے مطابق ٹربیونل نے صفدر کو اس تاریخ پر پیش ہونے کے لیے طلب کیا ہے۔
دعوے کے متن کے مطابق کیپٹن (ر) صفدر نے ٹی وی انٹرویوز اور سوشل میڈیا پر احسن بھون کی قانون کی ڈگری اور وکالت کی اہلیت کے بارے میں مبینہ طور پر ہتک آمیز بیانات دیے۔
دعوے میں کہا گیا ہے کہ احسن بھون نے قانون کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی اور وہ متعلقہ اداروں سے تصدیق شدہ ہے۔ احسن بھون کا موقف ہے کہ ان بیانات سے کئی دہائیوں پر محیط ان کی قانونی خدمات اور پیشہ ورانہ ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔
احسن بھون نے ٹربیونل سے استدعا کی ہے کہ صفدر کو ایک ارب روپے عمومی، 2 ارب روپے خصوصی اور 2 ارب روپے تعزیری ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا جائے، جو مجموعی طور پر 5 ارب روپے بنتے ہیں۔
دعوے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کیپٹن (ر) صفدر کو مبینہ بیانات واپس لینے اور غیر مشروط معافی مانگنے کا پابند کیا جائے، جبکہ انہیں آئندہ ایسے بیانات دینے سے بھی روکا جائے۔
منٹ مرر نے صفدر کو مسلم لیگ (ن) کا رہنما بتایا اور کہا کہ یہ تنازع 29 اکتوبر کو شیڈول سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات سے چند روز قبل شدت اختیار کر گیا ہے۔ ڈیلی پاکستان اردو نے جیو نیوز کے حوالے سے احسن بھون کو پاکستان بار کونسل کا رکن بھی بتایا ہے۔ دستیاب رپورٹس میں دعوے پر صفدر کا کوئی ردعمل شامل نہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
دعویٰ جوڈیشل کمیشن کے رکن اور ایک معروف سیاسی شخصیت کے درمیان ہے، اور یہ تنازع 29 اکتوبر کے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن انتخابات سے پہلے پاکستان کے قارئین کی توجہ کا مرکز ہے۔



