ابھی ابھیتعز کے قریب حوثی لڑائی، یمنی شہری خوراک اور پانی کی قلت کا شکارجامعہ کراچی نے لا کالجز کے نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنا دیپاکستان میں ایل پی جی مہنگی، رکشہ ڈرائیور کھانے کم کرنے پر مجبور
پاکستان2 ذرائع سے تصدیق شدہ

جنوبی وزیرستان میں افغان مارٹر گولہ باری، ایک شہری جاں بحق، پانچ زخمی

پاکستانی حکام کے مطابق افغان طالبان فورسز کی گولہ باری سے جنوبی وزیرستان میں ایک شہری جاں بحق اور پانچ زخمی ہوئے۔ بازار کی دکانوں کو نقصان پہنچا جبکہ پاکستانی فورسز نے جواب دیا۔

Roof of the qom grand bazaar, qom, iran
Roof of the qom grand bazaar, qom, iran تصویر: Amir Pashaei / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0
اہم نکات
  • حکام کے مطابق ایک شہری جاں بحق اور پانچ زخمی ہوئے۔
  • جنوبی وزیرستان کے انگور اڈہ بازار کی دکانوں کو نقصان پہنچا۔
  • کابل کا ردعمل سامنے نہیں آیا اور فائرنگ کی وجہ واضح نہیں۔
1جاں بحق شہری
5زخمی

پاکستانی حکام نے بدھ کی صبح بتایا کہ افغان طالبان کی فورسز نے شمال مغربی پاکستان کے ضلع جنوبی وزیرستان پر مارٹر گولے فائر کیے، جس سے ایک شہری جاں بحق اور پانچ زخمی ہو گئے۔ یہ ضلع خیبر پختونخوا میں افغان سرحد کے ساتھ واقع ہے۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے ایکس پر بتایا کہ گولہ باری سے سرحد کے قریب انگور اڈہ بازار کی دکانوں کو نقصان پہنچا۔ ان کے مطابق سرحد پر تعینات پاکستانی فورسز نے "مؤثر اور بھرپور جواب" دیا۔

مقامی پولیس سربراہ اسرار احمد نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا کہ رات گئے سرحدی ضلع میں جھڑپیں ہوئیں۔ ان کے مطابق افغان فوجیوں نے توپ خانے سے گولہ باری کی اور بعض مارٹر گولے آبادی والے علاقوں، بشمول ایک بازار، میں گرے۔

خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے شہری گھروں اور انگور اڈہ بازار پر کارروائی کو بلااشتعال جارحیت قرار دے کر مذمت کی۔ انہوں نے پاکستانی فوج کے جواب کو سراہا اور کہا کہ صوبے نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانی دی ہے۔ ان کے بیان کے مطابق پاکستان اپنے عوام پر حملوں یا خودمختاری کی خلاف ورزی کو کبھی برداشت نہیں کرے گا۔

کابل کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، اور یہ بھی واضح نہیں کہ فائرنگ کے تبادلے کا آغاز کیسے ہوا۔

یہ جھڑپ ایسے وقت ہوئی جب چند روز قبل اسلام آباد نے کابل پر زور دیا تھا کہ وہ ان عسکریت پسندوں کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کرے جن پر افغان سرزمین سے پاکستان میں حملوں کا الزام ہے۔ پاکستان بارہا افغان طالبان حکومت پر الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ ٹی ٹی پی اور بلوچ لبریشن آرمی کو پناہ دیتی ہے۔ افغان طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

رواں سال سرحدی جھڑپوں اور افغانستان میں پاکستانی فضائی حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق ملک میں تشدد کے واقعات میں اضافے کی ذمہ داری بڑی حد تک ٹی ٹی پی اور اس سے منسلک گروہوں پر عائد ہوتی ہے، جو اکثر سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں اور 2021 میں افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد ان کی سرگرمیاں بڑھی ہیں۔

یہ کیوں اہم ہے

خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع کے رہائشیوں کی جان و مال کو سرحد پار گولہ باری سے خطرہ لاحق ہے۔ اس واقعے سے افغانستان کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی بھی بڑھتی ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

جنوبی وزیرستانافغانستانخیبر پختونخوا

اس خبر پر مزید