انگور اڈہ کے قریب افغان چوکیوں کی فائرنگ، پاکستانی فورسز کا جوابی ردعمل
لوئر جنوبی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق انگور اڈہ کے قریب فائرنگ کے بعد سکیورٹی فورسز نے متعدد افغان سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ پاکستانی سرحدی علاقوں میں اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔

- انگور اڈہ کے قریب افغان چوکیوں کی فائرنگ پر پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائی کی۔
- ڈپٹی کمشنر کے مطابق افغان طالبان اہلکار کئی چوکیاں چھوڑ گئے۔
- ان کے مطابق پاکستانی سرحدی علاقوں میں اب تک کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
لوئر جنوبی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق انگور اڈہ کے قریب افغان سرحدی چوکیوں نے فائرنگ کی تو پاکستانی سکیورٹی فورسز نے جوابی فائر کیا۔ انہوں نے یہ بات اتوار کو ایکس پر اپنی پوسٹ میں بتائی۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پاکستانی فورسز نے متعدد افغان سرحدی چوکیوں، مورٹر پوزیشنوں اور دفاعی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق پاکستانی کارروائی کے بعد افغان طالبان اہلکار اپنی پوزیشنیں چھوڑ گئے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستانی سرحدی علاقوں میں اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فورسز کسی بھی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
اسی ہفتے کے آغاز میں انگور اڈہ کے قریب جھڑپوں میں ایک شخص جاں بحق اور ایک خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوئے تھے۔ پاک فوج نے کہا کہ اس نے افغان جارحیت کے جواب میں افغان طالبان کی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اسے "جان بوجھ کر اور غیر قانونی دراندازی" (انگریزی سے ترجمہ) قرار دیا۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان لڑائی اکتوبر 2025 میں شروع ہوئی تھی۔ فروری کے آخر کے قریب سرحدی جھڑپیں دوبارہ ہونے پر آپریشن غضب للحق شروع کیا گیا۔
18 مارچ کو عیدالفطر کی شب ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کی درخواست پر ایک ہفتے کی جنگ بندی طے پائی۔ اپریل میں چین کے شہر اورومچی میں امن مذاکرات کے دوران پاکستان نے افغان طالبان کے سامنے تین مطالبات رکھے۔
پاکستان کے مطالبات میں کابل کی جانب سے ٹی ٹی پی کو باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دینا، اس کا ڈھانچہ ختم کرنا اور کارروائی کا قابل تصدیق ثبوت دینا شامل ہیں۔
حکومت کے مطابق ستمبر میں فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں خیبر پختونخوا میں 37 دہشت گرد مارے گئے۔ وزارت اطلاعات نے بتایا کہ تین اہداف تباہ ہوئے، جن میں خودکش بمباروں کا تربیتی مرکز بھی تھا، اور 28 دہشت گرد مارے گئے۔ 24 ستمبر کو افغان علاقے سے ڈرون پاکستانی فضائی حدود میں آنے کے بعد پاکستان نے افغانستان میں 10 مقامات پر حملے کیے۔
یہ کیوں اہم ہے
سرحد پار فائرنگ سے جنوبی وزیرستان کے سکیورٹی اہلکار اور رہائشی خطرے میں ہیں اور اس کا اثر کابل کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پر پڑتا ہے۔



