ابھی ابھیپاکستان ایگزم بینک اور ڈیجیٹل پورٹلز سے برآمدی فنانسنگ بڑھائے گاامریکا میں وسط مدتی انتخابات کی ووٹنگ، مکمل نتائج میں دن لگ سکتے ہیںسانحہ پمز: ایف آئی آر کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے جواب طلب کر لیا
پاکستان7 ذرائع سے تصدیق شدہ

انگور اڈہ کے قریب افغان چوکیوں کی فائرنگ، پاکستانی فورسز کا جوابی ردعمل

لوئر جنوبی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق انگور اڈہ کے قریب فائرنگ کے بعد سکیورٹی فورسز نے متعدد افغان سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ پاکستانی سرحدی علاقوں میں اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔

Baddar, South Waziristan Agency, FATA, Pakistan
Baddar, South Waziristan Agency, FATA, Pakistan تصویر: Sufyan Ali Mahsud / Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0
اہم نکات
  • انگور اڈہ کے قریب افغان چوکیوں کی فائرنگ پر پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائی کی۔
  • ڈپٹی کمشنر کے مطابق افغان طالبان اہلکار کئی چوکیاں چھوڑ گئے۔
  • ان کے مطابق پاکستانی سرحدی علاقوں میں اب تک کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
1اس ہفتے پہلے کی جھڑپوں میں جاں بحق
5پہلے زخمی ہونے والے خاندان کے افراد
1024 ستمبر کو افغانستان میں نشانہ بنائے گئے مقامات

لوئر جنوبی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق انگور اڈہ کے قریب افغان سرحدی چوکیوں نے فائرنگ کی تو پاکستانی سکیورٹی فورسز نے جوابی فائر کیا۔ انہوں نے یہ بات اتوار کو ایکس پر اپنی پوسٹ میں بتائی۔

ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پاکستانی فورسز نے متعدد افغان سرحدی چوکیوں، مورٹر پوزیشنوں اور دفاعی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق پاکستانی کارروائی کے بعد افغان طالبان اہلکار اپنی پوزیشنیں چھوڑ گئے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی سرحدی علاقوں میں اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فورسز کسی بھی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

اسی ہفتے کے آغاز میں انگور اڈہ کے قریب جھڑپوں میں ایک شخص جاں بحق اور ایک خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوئے تھے۔ پاک فوج نے کہا کہ اس نے افغان جارحیت کے جواب میں افغان طالبان کی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اسے "جان بوجھ کر اور غیر قانونی دراندازی" (انگریزی سے ترجمہ) قرار دیا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان لڑائی اکتوبر 2025 میں شروع ہوئی تھی۔ فروری کے آخر کے قریب سرحدی جھڑپیں دوبارہ ہونے پر آپریشن غضب للحق شروع کیا گیا۔

18 مارچ کو عیدالفطر کی شب ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کی درخواست پر ایک ہفتے کی جنگ بندی طے پائی۔ اپریل میں چین کے شہر اورومچی میں امن مذاکرات کے دوران پاکستان نے افغان طالبان کے سامنے تین مطالبات رکھے۔

پاکستان کے مطالبات میں کابل کی جانب سے ٹی ٹی پی کو باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دینا، اس کا ڈھانچہ ختم کرنا اور کارروائی کا قابل تصدیق ثبوت دینا شامل ہیں۔

حکومت کے مطابق ستمبر میں فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں خیبر پختونخوا میں 37 دہشت گرد مارے گئے۔ وزارت اطلاعات نے بتایا کہ تین اہداف تباہ ہوئے، جن میں خودکش بمباروں کا تربیتی مرکز بھی تھا، اور 28 دہشت گرد مارے گئے۔ 24 ستمبر کو افغان علاقے سے ڈرون پاکستانی فضائی حدود میں آنے کے بعد پاکستان نے افغانستان میں 10 مقامات پر حملے کیے۔

یہ کیوں اہم ہے

سرحد پار فائرنگ سے جنوبی وزیرستان کے سکیورٹی اہلکار اور رہائشی خطرے میں ہیں اور اس کا اثر کابل کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پر پڑتا ہے۔

غلطی کی نشاندہی کریں

جنوبی وزیرستانافغانستانانگور اڈہ

اس خبر پر مزید