شمالی کوریا کی بائنانس کی 6.3 ارب ڈالر کی ریکارڈ ہیکنگ میں ملوث ہونے کی تردید
شمالی کوریا نے بائنانس کی 6.3 ارب ڈالر کی ہیکنگ سے تعلق کے امریکی الزامات مسترد کر دیے ہیں۔ محققین کے مطابق چوری شدہ اربوں ڈالر کی کرپٹو کئی بلاک چینز پر منتقل کی گئی اور تقریباً 2.85 ارب ڈالر منجمد یا ضبط ہو چکے ہیں۔

- شمالی کوریا نے 6.3 ارب ڈالر کی بائنانس ہیکنگ سے متعلق امریکی الزامات کو سیاسی اشتعال انگیزی قرار دے کر مسترد کیا۔
- ایلپٹک کے مطابق ہیکرز نے چار دن میں تقریباً 12 ہزار والٹس اور 40 ہزار سے زیادہ لین دین استعمال کیے۔
- ایلپٹک کے مطابق چوری شدہ رقم میں سے تقریباً 2.85 ارب ڈالر منجمد یا ضبط ہو چکے ہیں۔
- بائنانس کے مطابق متاثرہ رقم کا تقریباً 95 فیصد پورا کر دیا گیا ہے۔
شمالی کوریا نے بائنانس کرپٹو ایکسچینج کی 6.3 ارب ڈالر کی ہیکنگ سے تعلق کے امریکی الزامات کی تردید کی ہے۔ سی این بی سی کے مطابق شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے اس الزام کو سیاسی اشتعال انگیزی قرار دیا۔
کم یو جونگ نے ایف بی آئی کی جانب سے حملے کو شمالی کوریا سے منسلک ہیکنگ گروپ ٹریڈر ٹریٹر سے جوڑنے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا: "ایف بی آئی ڈی پی آر کے کو 'سائبر مجرم ریاست' قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ اسے معلومات ملی ہیں کہ ڈی پی آر کے کی 'حمایت یافتہ' ہیکنگ تنظیم اس واقعے میں ملوث تھی۔" (انگریزی سے ترجمہ) انہوں نے واشنگٹن پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ دنیا بھر کے سائبر جرائم کو شمالی کوریا کا کام ظاہر کر کے عالمی رائے کو گمراہ کر رہا ہے۔
بلاک چین تجزیاتی کمپنی ایلپٹک نے پیر کو شائع رپورٹ میں چوری شدہ رقم کا سراغ بیان کیا۔ اس کے مطابق حملے کے بعد پہلے چار دن میں ہیکرز نے 11 بلاک چینز پر تقریباً 12 ہزار والٹس استعمال کیے اور 40 ہزار سے زیادہ لین دین کیے۔ اوسطاً ہر 25 سیکنڈ میں ایک نیا والٹ استعمال ہوا اور یہ سرگرمی انتہائی پیچیدہ اور خودکار دکھائی دی۔
منی لانڈرنگ کا بڑا حصہ ابتدا میں ٹرون بلاک چین پر ہوا، جہاں رقم تقریباً 7,700 ایڈریسز میں پھیلائی گئی اور پھر کراس چین برجز کے ذریعے ایتھریم منتقل ہوئی۔ ایلپٹک کے مطابق کم از کم 14 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ٹرون سے اس طرح باہر گئے۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ تقریباً 78 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے اسٹیبل کوائنز تبدیل کیے گئے، جس کے بعد ٹیدر اور سرکل سمیت جاری کنندگان نے باقی اثاثے منجمد کر دیے۔
چین الیسس کے مطابق شمالی کوریا سے منسلک عناصر نے ٹرون کے اسٹیجنگ والٹس سے 50 کروڑ ڈالر نکالنے کے بعد چوری شدہ رقم سولانا پر منتقل کرنا شروع کی۔ ایلپٹک نے بٹ کوائن مکسنگ کے ابتدائی آثار بھی دیکھے، جس میں پیر کی صبح تک تقریباً 28 بٹ کوائن، یعنی 22 لاکھ ڈالر، 18 مکسنگ لین دین سے گزرے۔
ایلپٹک نے چوری شدہ رقم کا تخمینہ 6.43 ارب ڈالر لگایا، جس میں سے تقریباً 44 فیصد یعنی 2.85 ارب ڈالر منجمد یا ضبط ہو چکے ہیں۔ تقریباً 3.24 ارب ڈالر اب بھی چوری سے منسلک ایڈریسز میں ہیں، جن میں زیادہ تر بٹ کوائن اور ایتھر ہیں۔ ایلپٹک کے مطابق نقد میں تبدیل کی گئی رقم نہ ہونے کے برابر ہے۔
ایلپٹک کے مطابق یہ عمل فروری 2025 کی 1.5 ارب ڈالر کی بائبٹ ہیکنگ کے مقابلے میں سست ہے، جب شمالی کوریا کے ہیکرز نے چوری شدہ تمام ایتھر 10 دن میں منتقل کر دیے تھے۔ اسے توقع ہے کہ باقی رقم بتدریج بٹ کوائن میں بدلی جائے گی اور ممکنہ طور پر کئی مہینوں میں اوور دی کاؤنٹر بروکرز اور ایکسچینجز کے ذریعے نقد کی جائے گی۔
بائنانس نے کہا ہے کہ رقوم کی واپسی مرحلہ وار بحال ہو رہی ہے اور صارفین کو خبردار کیا کہ لین دین تیز کرنے یا معاوضہ دلانے کی پیشکش کرنے والے فراڈیوں سے بچیں۔ اس کے مطابق متاثرہ رقم کا تقریباً 95 فیصد پورا کر دیا گیا ہے، جبکہ باقی 5 فیصد کم لیکوئڈ ٹوکنز پر مشتمل ہے جنہیں حاصل کرنے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔ وہ انہیں حاصل کرنے کے لیے صنعتی شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
یہ کیس عالمی ٹیکنالوجی کی خبروں میں دلچسپی رکھنے والے پاکستانی قارئین کے لیے سائبر سکیورٹی کی بڑی خبر ہے۔ بائنانس کی جانب سے لین دین تیز کرنے یا معاوضہ دلانے کی پیشکش کرنے والے فراڈیوں سے متعلق انتباہ اس کے صارفین کے لیے اہم ہے۔



