وزیراعظم کی صدارت میں اجلاس، خیبرپختونخوا میں انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشنز بڑھانے کا فیصلہ
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں خیبرپختونخوا میں انٹیلی جنس بنیاد پر انسداد دہشت گردی آپریشنز کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دوسری جانب بلوچستان میں 17 دہشت گرد مارے گئے اور مہمند میں تین پولیس اہلکار شہید ہوئے۔

- وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں خیبرپختونخوا میں انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشنز بڑھانے کا فیصلہ۔
- کچھی اور خاران میں سکیورٹی فورسز نے 17 دہشت گرد ہلاک کیے، ایک سپاہی شہید۔
- مہمند میں انسداد پولیو ڈیوٹی پر جاتے تین پولیس اہلکار فائرنگ میں شہید۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی اور داخلی سلامتی سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا جس میں خیبرپختونخوا کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق اجلاس میں صوبے میں انٹیلی جنس بنیاد پر انسداد دہشت گردی آپریشنز کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں اور تمام متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے کا بھی فیصلہ ہوا۔ اجلاس میں عسکری و سول حکام اور وفاقی وزراء شریک تھے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی شرکت کی اور صوبائی حکومت کے محکموں کے اقدامات پر بریفنگ دی۔
شرکاء نے صوبے کے 12 اضلاع کی صورتحال پر بات کی۔ اجلاس میں اے آر ڈی سی کی کارکردگی اور خیبرپختونخوا کے لیے وفاقی حکومت کے 160 ارب روپے کے پیکیج پر عمل درآمد کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے معاملے پر بھی گفتگو ہوئی۔
سیاسی محاذ پر بلاول بھٹو زرداری نے پیپلز پارٹی کے وفد کے ہمراہ وزیراعظم سے ملاقات کی، جس میں سیاسی و معاشی صورتحال اور خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد کی صورتحال پر بات ہوئی۔ اس سے قبل زرداری ہاؤس میں بلاول کی صدارت میں پارٹی کے اعلیٰ سطح اجلاس میں سیاسی صورتحال، پارلیمانی امور اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بیانات پر غور کیا گیا۔
بلوچستان کے اضلاع کچھی اور خاران میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بنیاد پر دو آپریشنز میں 17 دہشت گرد ہلاک کیے، جنہیں بھارت کی پشت پناہی سے سرگرم بتایا گیا ہے۔ کچھی کے علاقے سنی میں فورسز نے دہشت گردوں کی سڑک بند کرنے کی کوشش ناکام بنائی، 10 دہشت گرد مارے اور اسلحہ و دھماکا خیز مواد برآمد کیا۔
خاران میں دہشت گردوں کا ٹھکانہ تباہ کیا گیا اور فائرنگ کے تبادلے کے بعد فتنہ الخوارج کے 7 دہشت گرد مارے گئے۔ اس دوران سپاہی حکمت اللہ شہید ہوئے۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم نے سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو سراہا، جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی فورسز کی تعریف کی اور شہید سپاہی کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔
ایک اور واقعے میں ضلع مہمند میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے تین پولیس اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوگیا۔ واقعہ تحصیل پنڈیالی کے علاقے داگ تمنزئی میں ہاشم کور پولیس چوکی کے قریب اس وقت پیش آیا جب اہلکار انسداد پولیو مہم کی ڈیوٹی پر جا رہے تھے۔ شہید اہلکاروں میں سے دو کی شناخت ظہور اور عربی کے نام سے ہوئی۔ زخمی اہلکار کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔
یہ کیوں اہم ہے
خیبرپختونخوا میں سکیورٹی آپریشنز کا دائرہ بڑھنے کا اثر صوبے کے رہائشیوں اور سفر پر پڑتا ہے، جہاں انسداد پولیو ڈیوٹی پر جانے والے پولیس اہلکار بھی نشانہ بنے۔



