قومی اسمبلی کمیٹی نے کے فور تاخیر کی تحقیقات کے لیے چار رکنی پینل بنا دیا
قومی اسمبلی کی ایک کمیٹی نے بھاری اخراجات کے باوجود کے فور منصوبہ مکمل نہ ہونے کی تحقیقات کے لیے چار رکنی ذیلی کمیٹی بنائی ہے۔ اس کے کنوینر رکن اسمبلی محمد ادریس ہوں گے۔

- قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل نے کے فور پر چار رکنی ذیلی کمیٹی بنائی۔
- ذیلی کمیٹی کے کنوینر رکن اسمبلی محمد ادریس ہوں گے۔
- کچھی کینال سے مبینہ پانی چوری پر حکام کو ایک ہفتے میں رپورٹ دینے کی ہدایت۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل نے کے فور منصوبہ بھاری اخراجات کے باوجود مکمل نہ ہونے کی تحقیقات کے لیے چار رکنی ذیلی کمیٹی مقرر کر دی ہے۔ یہ خبر منٹ مرر اور دی نیشن نے دی ہے۔
ذیلی کمیٹی کے کنوینر رکن قومی اسمبلی محمد ادریس ہوں گے۔ اس کا کام یہ معلوم کرنا ہے کہ منصوبہ کیوں مکمل نہیں ہوا اور تاخیر کہاں ہوئی۔
کمیٹی کا 14واں اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں دوپہر 2 بجے رکن اسمبلی احمد عتیق انور کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس سے سامنے آنے والی معلومات میں کے فور پر خرچ ہونے والی کل رقم، تاخیر کی وجوہات یا کسی فرد یا ادارے کی ذمہ داری کا ذکر نہیں تھا۔
کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ بتائیں کہ کچھی کینال سے پانی چوری کی رپورٹس متعلقہ محکموں کو بھیجی گئیں یا نہیں اور اسے روکنے کے لیے کوئی کارروائی ہوئی یا نہیں۔ حکام کو صورتحال اور اب تک کیے گئے اقدامات پر تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی گئی ہے۔ چوری شدہ پانی کی مقدار، مبینہ طور پر ملوث افراد یا کسی تصدیق شدہ کارروائی کی تفصیل نہیں دی گئی۔
اجلاس میں واپڈا ایکٹ 1958 پر بھی بات ہوئی۔ ارکان کو بتایا گیا کہ اس قانون میں واپڈا کے سکیورٹی نظام کی تشکیل، دائرہ اختیار، اختیارات یا فرائض کی واضح شقیں موجود نہیں۔ کمیٹی نے مجوزہ بل پر غور اگلے اجلاس تک مؤخر کر دیا۔
منٹ مرر کے مطابق پنجاب پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی نے انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ٹرانسفیوژن سروسز پنجاب کے لیے لیبارٹری آلات کی متنازع خریداری آزادانہ انکوائری کے لیے بھیج دی۔ یہ اقدام جانچ کے عمل میں بے ضابطگیوں کے الزامات اور مرمت شدہ مشینری کی ممکنہ فراہمی کے بعد کیا گیا۔
یہ کیوں اہم ہے
کے فور کے پانی پر انحصار کرنے والے شہری برسوں کی تاخیر اور غیر واضح اخراجات سے متاثر ہیں، اور نئی ذیلی کمیٹی اسی تاخیر کی وجوہات کا جائزہ لے گی۔



